🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
75. باب بيع الزبيب بالزبيب والطعام بالطعام:
باب: منقی کو منقی کے بدل اور اناج کو اناج کے بدل بیچنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2173
قَالَ: وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، کہ مجھ سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عرایا کی اجازت دے دی تھی جو اندازے ہی سے بیع کی ایک صورت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2173]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زيد بن ثابت الأنصاري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو خارجة، أبو عبد الرحمنصحابي
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2173 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2173
حدیث حاشیہ:
عرایا بھی مزابنہ ہی ایک قسم ہے۔
مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی خاص طور سے اجازت دی بوجہ ضرورت کے۔
وہ ضرورت یہ تھی کہ لوگ خیرات کے طور پر ایک دو درخت کا میوہ کسی محتاج کو دیا کرتے تھے پھر اس کا باغ میں گھڑی گھڑی آنا مالک کوناگوار ہوتا۔
تو اس میوہ کا اندازہ کرکے اتنی خشک میوے کے بدل وہ درخت اس فقیر سے خرید لیتے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2173]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2173
حدیث حاشیہ:
(1)
یہ حدیث دراصل حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی حدیث کا حصہ ہے۔
وہ خود بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت زید بن ثابت ؓ نے یہ حدیث سنائی۔
اس میں ایک استثنائی صورت کا بیان ہے کہ تازہ پھل کے عوض خشک پھل لینا عرایاں میں جائز ہے۔
اس کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں۔
ہم صرف دوقول بیان کرتے ہیں:
٭فقراء کے پاس خشک کھجوریں ہوتی ہیں۔
جب تازہ کھجور کا موسم آتا ہے تو وہ بھی تازہ کھجوریں کھانا چاہتے ہیں،اس لیے انھیں اجازت دی گئی کہ وہ درخت پر موجود تازہ کھجوریں خشک کھجوروں کے عوض اندازے سے خرید لیں۔
٭کوئی شخص کسی غریب کو کھجور کا درخت دےدے کہ تم اس کا پھل استعمال کرسکتےہو،پھر جب وہ اس درخت سے تازہ کھجوریں کھانے باغ میں آئے تو اس کے آنے سے مالک کو تکلیف ہو تو اس کے لیے اجازت ہے کہ وہ اسے خشک کھجوریں دےدے اور تازہ کھجوروں کا درخت خود رکھ لے۔
(2)
اہل عرایا کے لیے پانچ وسق، یعنی تقریباً 20 من تک کی مقدار لینے دینے کی اجازت ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ وسق یا اس سے کم مقدار میں بیع عریہ کی اجازت دی ہے۔
(صحیح البخاري، البیوع، حدیث: 2190)
اس کی مزید تفصیل آئندہ بیان ہوگی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2173]

Sahih Bukhari Hadith 2173 in Urdu