صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
108. باب بيع العبيد والحيوان بالحيوان نسيئة:
باب: غلام کو غلام کے بدلے اور کسی جانور کو جانور کے بدلے ادھار بیچنا۔
حدیث نمبر: Q2228-2
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
اس سلسلے میں مقبری کی روایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: Q2228-2]
حدیث نمبر: Q2228
وَاشْتَرَى ابْنُ عُمَرَ رَاحِلَةً بِأَرْبَعَةِ أَبْعِرَةٍ مَضْمُونَةٍ عَلَيْهِ، يُوفِيهَا صَاحِبَهَا بِالرَّبَذَةِ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ يَكُونُ الْبَعِيرُ خَيْرًا مِنَ الْبَعِيرَيْنِ، وَاشْتَرَى رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ بَعِيرًا بِبَعِيرَيْنِ فَأَعْطَاهُ أَحَدَهُمَا، وَقَالَ: آتِيكَ بِالْآخَرِ غَدًا رَهْوًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ: لَا رِبَا فِي الْحَيَوَانِ الْبَعِيرُ بِالْبَعِيرَيْنِ وَالشَّاةُ بِالشَّاتَيْنِ إِلَى أَجَلٍ، وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ: لَا بَأْسَ بَعِيرٌ بِبَعِيرَيْنِ نَسِيئَةً.
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک اونٹ چار اونٹوں کے بدلے میں خریدا تھا۔ جن کے متعلق یہ طے ہوا تھا کہ مقام ربذہ میں وہ انہیں اسے دے دیں گے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ کبھی ایک اونٹ، دو اونٹوں کے مقابلے میں بہتر ہوتا ہے۔ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے ایک اونٹ دو اونٹوں کے بدلے میں خریدا تھا۔ ایک تو اسے دے دیا تھا، اور دوسرے کے متعلق فرمایا تھا کہ وہ کل انشاء اللہ کسی تاخیر کے بغیر تمہارے حوالے کر دوں گا۔ سعید بن مسیب نے کہا کہ جانوروں میں سود نہیں چلتا۔ ایک اونٹ دو اونٹوں کے بدلے، اور ایک بکری دو بکریوں کے بدلے ادھار بیچی جا سکتی ہے ابن سیرین نے کہا کہ ایک اونٹ دو اونٹوں کے بدلے ادھار بیچنے میں کوئی حرج نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: Q2228]
حدیث نمبر: 2228
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ فِي السَّبْيِ صَفِيَّةُ، فَصَارَتْ إِلَى دَحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، ثُمَّ صَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قیدیوں میں صفیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ پہلے تو وہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو ملیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2228]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ (غزوہ خیبر کے وقت) قیدیوں میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ وہ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مل گئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2228]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← ثابت بن أسلم البناني | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب سليمان بن حرب الواشحي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة إمام حافظ |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2228 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2228
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے یہ نکالا کہ جانور سے جانور کا تبادلہ درست ہے۔
اسی طرح غلام کا غلام سے، لونڈی کا لونڈی سے، کیوں کہ یہ سب حیوان ہی تو ہیں۔
اور ہر حیوان کا یہی حکم ہوگا۔
بعض نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اس حدیث میں کمی اور زیادتی کا ذکرنہیں ہے اور نہ ادھار کا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت امام بخاری ؒ نے اس حدیث کے دوسرے طریق کی طرف اشارہ کیا ہے جس کو امام مسلم نے نکالا۔
اس میں یہ ہے کہ آپ نے صفیہ ؓ کو سات لونڈیاں دے کر خریدا۔
ابن بطال نے کہا جب آپ نے دحیہ ؓ سے فرمایا کہ تو صفیہ ؓ کے بدل میں اور کوئی لونڈی قیدیوں میں سے لے لے تو یہ بیع ہوئی لونڈی کی بعوض لونڈی کے ادھار اور اس کا یہی مطلب ہے۔
(وحیدی)
حضرت دحیہ کلبی ؓ خلیفہ کلبی کے بیٹے ہیں۔
مرتبہ والے صحابی ہیں۔
غزوہ احد اور بعد کے جملہ غزوات میں شریک ہوئے۔
6ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قیصر شاہ روم کے دربار میں نامہ مبارک دے کر بھیجا تھا۔
قیصر نے مسلمان ہونا چاہا مگر اپنی عیسائی رعایا کے ڈر سے اسلام قبول نہیں کیا۔
یہ دحیہ ؓ وہی صحابی ہیں کہ حضرت جبریل ؑ اکثر ان کی شکل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لایا کرتے تھے۔
آخر میں حضرت دحیہ کلبی ؓ ملک شام میں چلے گئے اور عہد معاویہ تک وہیں رہے۔
بہت سے تابعین نے ان سے روایت کی ہے۔
حدیث صفیہ ؓ میں ان ہی کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے یہ نکالا کہ جانور سے جانور کا تبادلہ درست ہے۔
اسی طرح غلام کا غلام سے، لونڈی کا لونڈی سے، کیوں کہ یہ سب حیوان ہی تو ہیں۔
اور ہر حیوان کا یہی حکم ہوگا۔
بعض نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اس حدیث میں کمی اور زیادتی کا ذکرنہیں ہے اور نہ ادھار کا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت امام بخاری ؒ نے اس حدیث کے دوسرے طریق کی طرف اشارہ کیا ہے جس کو امام مسلم نے نکالا۔
اس میں یہ ہے کہ آپ نے صفیہ ؓ کو سات لونڈیاں دے کر خریدا۔
ابن بطال نے کہا جب آپ نے دحیہ ؓ سے فرمایا کہ تو صفیہ ؓ کے بدل میں اور کوئی لونڈی قیدیوں میں سے لے لے تو یہ بیع ہوئی لونڈی کی بعوض لونڈی کے ادھار اور اس کا یہی مطلب ہے۔
(وحیدی)
حضرت دحیہ کلبی ؓ خلیفہ کلبی کے بیٹے ہیں۔
مرتبہ والے صحابی ہیں۔
غزوہ احد اور بعد کے جملہ غزوات میں شریک ہوئے۔
6ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قیصر شاہ روم کے دربار میں نامہ مبارک دے کر بھیجا تھا۔
قیصر نے مسلمان ہونا چاہا مگر اپنی عیسائی رعایا کے ڈر سے اسلام قبول نہیں کیا۔
یہ دحیہ ؓ وہی صحابی ہیں کہ حضرت جبریل ؑ اکثر ان کی شکل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لایا کرتے تھے۔
آخر میں حضرت دحیہ کلبی ؓ ملک شام میں چلے گئے اور عہد معاویہ تک وہیں رہے۔
بہت سے تابعین نے ان سے روایت کی ہے۔
حدیث صفیہ ؓ میں ان ہی کا ذکر ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2228]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2228
حدیث حاشیہ:
(1)
مذکورہ روایت انتہائی مختصر ہے۔
دوسری روایات میں تفصیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ ؓ کو دحیہ کلبی ؓ سے سات غلاموں کے عوض خریدا۔
(مسند أحمد: 123/3)
اسی طرح حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو غلاموں کے عوض ایک غلام خرید کیا۔
(صحیح مسلم، المساقاة، حدیث: 4113(1602)
(2)
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ایک لشکر کی تیاری کا حکم دیا،اونٹ ختم ہوگئے تو آپ نے انھیں صدقے کے اونٹ آنے پر ادھار اونٹ لینے کا حکم فرمایا۔
حضرت عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ میں ایک اونٹ صدقے کے دواونٹوں کے بدلے میں لیتا تھا، یعنی دو اونٹوں کی ادائیگی صدقے کے اونٹ آنے پر ہوگی۔
(سنن أبي داود، البیوع، حدیث: 3357)
ایک روایت ميں ان روایات کے معارض ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیوان کو حیوان کے بدلے ادھار کی فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔
(السنن الکبریٰ للبیھقي: 288/5)
محدثین کی طرف سے اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس روایت میں ادھار سے مراد دونوں طرف سے ادھار ہے اور ایسا کرنا کسی کے نزدیک جائز نہیں۔
(معالم السنن: 29/5)
ہمارے رجحان کے مطابق حیوان کی حیوان کے عوض خریدوفروخت ادھار اور کمی بیشی کے ساتھ مطلق طور پر جائز ہے۔
والله أعلم.
(1)
مذکورہ روایت انتہائی مختصر ہے۔
دوسری روایات میں تفصیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ ؓ کو دحیہ کلبی ؓ سے سات غلاموں کے عوض خریدا۔
(مسند أحمد: 123/3)
اسی طرح حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو غلاموں کے عوض ایک غلام خرید کیا۔
(صحیح مسلم، المساقاة، حدیث: 4113(1602)
(2)
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ایک لشکر کی تیاری کا حکم دیا،اونٹ ختم ہوگئے تو آپ نے انھیں صدقے کے اونٹ آنے پر ادھار اونٹ لینے کا حکم فرمایا۔
حضرت عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ میں ایک اونٹ صدقے کے دواونٹوں کے بدلے میں لیتا تھا، یعنی دو اونٹوں کی ادائیگی صدقے کے اونٹ آنے پر ہوگی۔
(سنن أبي داود، البیوع، حدیث: 3357)
ایک روایت ميں ان روایات کے معارض ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیوان کو حیوان کے بدلے ادھار کی فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔
(السنن الکبریٰ للبیھقي: 288/5)
محدثین کی طرف سے اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس روایت میں ادھار سے مراد دونوں طرف سے ادھار ہے اور ایسا کرنا کسی کے نزدیک جائز نہیں۔
(معالم السنن: 29/5)
ہمارے رجحان کے مطابق حیوان کی حیوان کے عوض خریدوفروخت ادھار اور کمی بیشی کے ساتھ مطلق طور پر جائز ہے۔
والله أعلم.
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2228]
Sahih Bukhari Hadith 2228 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري