🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب الوكالة فى الحدود:
باب: حد لگانے کے لیے کسی کو وکیل کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2314
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ إِلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو لیث بن سعد نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عبیداللہ نے، انہیں زید بن خالد اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ضحاک اسلمی رضی اللہ عنہ سے فرمایا، اے انیس! اس خاتون کے یہاں جا۔ اگر وہ زنا کا اقرار کر لے تو اسے سنگسار کر دے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوكالة/حدیث: 2314]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زيد بن خالد الجهني، أبو عبد الرحمن، أبو زرعة، أبو طلحةصحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← زيد بن خالد الجهني
ثقة فقيه ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥هشام بن عبد الملك الباهلي، أبو الوليد
Newهشام بن عبد الملك الباهلي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2314 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2314
حدیث حاشیہ:
ترجمہ باب اس سے نکلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس کو حد لگانے کے لیے وکیل مقرر فرمایا۔
اس سے قانونی پہلو یہ بھی نکلا کہ مجرم خود اگر جرم کا اقرار کر لے تو اس پر قانون لاگو ہوجاتا ہے۔
اس صورت میں گواہوں کی ضرور ت نہیں ہے۔
اور زنا پر حد شرعی سنگساری بھی ثابت ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2314]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2314
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ نے اس عنوان سے ایسے خالص حقوق اللہ میں وکالت کو ثابت کیا ہے جو عبادت کے علاوہ ہیں۔
واضح رہے کہ عبادات محضہ، مثلاً:
نماز، روزہ اور طہارت وغیرہ میں وکالت جائز نہیں۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انیس کو حد قائم کرنے کے لیے بھیجا کیونکہ وہ اس عورت کے قبیلے سے تھے، اگر کسی دوسرے قبیلے کہ شخص کو حد قائم کرنے کے لیے بھیجا جاتا تو ممکن تھا کہ وہ اس حکم سے نفرت کرتے۔
حضرت انیس اور ملزمہ عورت کا تعلق قبیلۂ اسلم سے تھا۔
(3)
اس حدیث سے قانونی پہلو یہ برآمد ہوتا ہے کہ اقرار جرم سے گواہوں کی ضرورت ساقط ہوجاتی ہے، نیز یہ بھی معلوم ہواکہ شادی شدہ زانی یا زانیہ کےلیے زنا کی حد سنگسار ہی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2314]

Sahih Bukhari Hadith 2314 in Urdu