🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب كتابة القطائع:
باب: قطعات اراضی بطور جاگیر دے کر ان کو سند لکھ دینا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2377
وَقَالَ اللَّيْثُ: عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ لِيُقْطِعَ لَهُمْ بِالْبَحْرَيْنِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ فَعَلْتَ فَاكْتُبْ لِإِخْوَانِنَا مِنْ قُرَيْشٍ بِمِثْلِهَا، فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي".
اور لیث نے یحییٰ بن سعید سے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلا کر بحرین میں انہیں قطعات اراضی بطور جاگیر دینے چاہے تو انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو ایسا کرنا ہی ہے تو ہمارے بھائی قریش (مہاجرین) کو بھی اسی طرح کی قطعات کی سند لکھ دیجئیے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اتنی زمین ہی نہ تھی اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا میرے بعد تم دیکھو گے کہ دوسرے لوگوں کو تم پر مقدم کیا جائے گا۔ تو اس وقت تم مجھ سے ملنے تک صبر کئے رہنا۔ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 2377]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ ان کو علاقہ بحرین میں جاگیریں دیں، انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ نے ایسا کرنا ہے تو ہمارے قریشی بھائیوں کو بھی ویسی ہی جاگیروں کی سند لکھ دیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت اتنی زمین نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم عنقریب دیکھو گے کہ (تمھیں نظر انداز کر کے) دوسروں کو تم پر ترجیح دی جائے گی۔ ایسے حالات میں صبر سے کام لینا حتیٰ کہ قیامت کے دن مجھ سے آ ملو۔ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 2377]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2377 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2377
حدیث حاشیہ:
حکومت اگر کسی کو بطور انعام جاگیر عطا کرے تو اس کی سند لکھ دینا ضروری ہے تاکہ وہ آئندہ ان کے کام آئے اور کوئی ان کا حق نہ مار سکے۔
ہندوستان میں شاہان اسلام نے ایسی کتنی سندیں تانبے کے پتروں پر کندہ کرکے بہت سے مندروں کے پچاریوں کو دی ہیں۔
جن میں ان کے لیے زمینوں کا ذکر ہے پھر بھی تعصب کا برا ہوا کہ آج ان کی شاندار تاریخ کو مسخ کرکے مسلمانوں کے خلاف فضا تیار کی جارہی ہے۔
اللهم انصر الإسلام و المسلمین آمین
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2377]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2377
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں دو چیزوں کا اضافہ ہے:
ایک یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگیر کے متعلق حکم نامہ تحریر کرنا چاہتے تھے تاکہ ریکارڈ رہے اور آئندہ کوئی لڑائی جھگڑا نہ ہو، دوسرا یہ کہ اس وقت انصار کی خواہش پوری کرنے کا امکان نہیں تھا۔
حالات ایسے تھے، شاید بحرین کی زمین اس قدر زیادہ نہ تھی کہ مہاجرین اور انصار دونوں کے لیے پوری ہوتی۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حکومت اگر کسی کو بطور انعام جاگیر دینا چاہے تو اس کی سند لکھ دینا ضروری ہے تاکہ وہ آئندہ ان کے کام آئے اور کوئی دوسرا ان کا حق مار نہ سکے۔
شاہانِ اسلام کی عطا کردہ سندیں آج بھی عجائب گھروں کی زینت ہیں۔
حالات کے مطابق ایسا کرنا ضروری ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2377]

Sahih Bukhari Hadith 2377 in Urdu