🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
63. بَابُ غَزْوِ الْمَرْأَةِ فِي الْبَحْرِ:
باب: دریا میں سوار ہو کر عورت کا جہاد کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2877
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ هُوَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ:سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنَةِ مِلْحَانَ فَاتَّكَأَ عِنْدَهَا، ثُمَّ ضَحِكَ، فَقَالَتْ: لِمَ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَثَلُهُمْ مَثَلُ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ:" اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ ثُمَّ عَادَ فَضَحِكَ، فَقَالَتْ لَهُ: مِثْلَ أَوْ مِمَّ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهَا: مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ، وَلَسْتِ مِنَ الْآخِرِينَ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: فَتَزَوَّجَتْ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ مَعَ بِنْتِ قَرَظَةَ فَلَمَّا، قَفَلَتْ رَكِبَتْ دَابَّتَهَا فَوَقَصَتْ بِهَا، فَسَقَطَتْ عَنْهَا فَمَاتَتْ.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے، ہم سے ابواسحاق نے ان سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن انصاری نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام بنت ملحان کے یہاں تشریف لے گئے اور ان کے یہاں تکیہ لگا کر سو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اٹھے تو) مسکرا رہے تھے۔ ام حرام نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ کیوں ہنس رہے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) سبز سمندر پر سوار ہو رہے ہیں ان کی مثال (دنیا یا آخرت میں) تخت پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں کی سی ہے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیجئیے کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اے اللہ! انہیں بھی ان لوگوں میں سے کر دے پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹے اور (اٹھے) تو مسکرا رہے تھے۔ انہوں نے اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلی ہی وجہ بتائی۔ انہوں نے پھر عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کر دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سب سے پہلے لشکر میں شریک ہو گی اور یہ کہ بعد والوں میں تمہاری شرکت نہیں ہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر آپ نے (ام حرام نے) عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکاح کر لیا اور بنت قرظ معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیوی کے ساتھ انہوں نے دریا کا سفر کیا۔ پھر جب واپس ہوئیں اور اپنی سواری پر چڑھیں تو اس نے ان کی گردن توڑ ڈالی۔ وہ اس سواری سے گر گئیں اور (اسی میں) ان کی وفات ہوئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2877]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے ہاں تکیہ لگا کر سو گئے۔ پھر (جب اٹھے تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔ انہوں (حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا) نے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے کے لیے) سبز سمندر پر سوار ہیں، جیسے بادشاہ تخت پر فروکش ہوں۔ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعا کریں کہ مجھے ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ» اے اللہ! اسے بھی ان لوگوں میں سے کر دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ (لیٹ کر اٹھے تو) مسکرا رہے تھے تو انہوں نے اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح جواب دیا۔ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کریں کہ اللہ مجھے ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پہلے لوگوں میں ہو چکی ہے، بعد والوں میں تیری شرکت نہیں ہو گی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا اور بنت قرظہ کے ساتھ انہوں نے سمندر کا سفر کیا۔ جب واپس آئیں تو اپنی سواری پر سوار ہوئیں، ان کی سواری اچھلی تو اس سے گر پڑیں اور فوت ہو گئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2877]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥عبد الله بن عبد الرحمن الأنصاري، أبو طوالة
Newعبد الله بن عبد الرحمن الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥إبراهيم بن محمد الفزاري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن محمد الفزاري ← عبد الله بن عبد الرحمن الأنصاري
إمام ثقة حافظ
👤←👥معاوية بن عمرو الأزدي، أبو عمرو
Newمعاوية بن عمرو الأزدي ← إبراهيم بن محمد الفزاري
ثقة
👤←👥عبد الله بن محمد الجعفي، أبو جعفر
Newعبد الله بن محمد الجعفي ← معاوية بن عمرو الأزدي
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2877 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2877
حدیث حاشیہ:
یہ نکاح کا معاملہ دوسری روایت کے خلاف پڑتا ہے‘ جس میں یہ ہے کہ اسی وقت عبادہ بن صامت ؓ کے نکاح میں تھیں۔
شاید انہوں نے طلاق دے دی ہوگی‘ بعد میں ان سے نکاح ثانی کیا ہوگا۔
یہ اس جنگ کا ذکر ہے جس میں حضرت عثمان ؓ کے زمانے میں رجب ۲۸ھ میں سب سے پہلا سمندری بیڑہ حضرت معاویہ ؓنے امیر المؤمنین کی اجازت سے تیار کیا اور قبرص پر چڑھائی کی۔
یہ مسلمانوں کی سب سے پہلی بحری جنگ تھی جس میں ام حرام ؓ جو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزیزہ تھیں‘ شریک ہوئیں اور شہادت بھی پائی۔
حضرت معاویہ ؓ کی بیوی کا نام فاختہ تھا اور وہ بھی آپ کے ساتھ اس میں شریک تھیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2877]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2877
حدیث حاشیہ:

حضرت عثمان ؓکے دور حکومت میں حضرت امیر معاویہ ؓ کی زیر نگرانی مسلمانوں نے پہلا سمندری سفر کیا اور قبرص پر چڑھائی کی۔
اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق حضرت اُم حرام ؓ بھی شریک ہوئیں اور شہادت پائی۔
حضرت امیر معاویہ ؓ کی زوجہ محترمہ بنت قرظہ بھی آپ کے ہمراہ تھیں۔

اس حدیث سے امام بخاری ؓ نے عورتوں کے لیے جہاد میں شرکت کو ثابت کیا ہے خواہ انھیں بحری سفر ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
واضح رہے کہ حضرت ام حرام بنت ملحان ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعى خالہ تھیں اس لیے آپ کا ان کے گھر آناجانا تھا۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2877]

Sahih Bukhari Hadith 2877 in Urdu