🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. بَابُ الْقَسَامَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ:
باب: زمانہ جاہلیت کی قسامت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3847
وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ: أَخْبَرَنَا عَمْرٌو , عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ , أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَيْسَ السَّعْيُ بِبَطْنِ الْوَادِي بَيْنَ الصَّفَا , وَالْمَرْوَةِ سُنَّةً إِنَّمَا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَسْعَوْنَهَا، وَيَقُولُونَ: لَا نُجِيزُ الْبَطْحَاءَ إِلَّا شَدًّا".
اور عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہیں عمرو نے خبر دی، انہیں بکیر بن اشج نے اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مولا کریب نے ان سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا صفا اور مروہ کے درمیان نالے کے اندر زور سے دوڑنا سنت نہیں ہے یہاں جاہلیت کے دور میں لوگ تیزی کے ساتھ دوڑا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم تو اس پتھریلی جگہ سے دوڑ ہی کر پار ہوں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3847]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”صفا و مروہ کے درمیان بطنِ وادی میں سعی سنت نہیں بلکہ زمانہ جاہلیت میں لوگ یہ سعی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم بطحاء سے دوڑ کر ہی گزریں گے۔“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3847]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥كريب بن أبي مسلم القرشي، أبو رشدين
Newكريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥بكير بن عبد الله القرشي، أبو يوسف، أبو عبد الله
Newبكير بن عبد الله القرشي ← كريب بن أبي مسلم القرشي
ثقة
👤←👥عمرو بن الحارث الأنصاري، أبو أيوب، أبو أمية
Newعمرو بن الحارث الأنصاري ← بكير بن عبد الله القرشي
ثقة فقيه حافظ
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عمرو بن الحارث الأنصاري
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3847 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3847
حدیث حاشیہ:
بعاث ب کے پیش کے ساتھ مدینہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے جہا ں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ سے پانچ سال پہلے اوس اور خزرج قبائل میں سخت لڑائی ہوئی تھی جس میں ان کے بہت سے اشراف مارے گئے تھے، قال القسطلاني فإن قلت السعي رکن من أرکان الحج وھو طریقة رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم وسنته فکیف قال لیس بسنة قلت المراد من السعي ھھنا معناہ اللغوي۔
یہاں سعی لغوی مراد ہے سعی مسنونہ مراد نہیں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3847]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3847
حدیث حاشیہ:
صفاہ مروہ کے درمیان سعی کرنا سنت ہے اور اس کی ابتدا بی بی ہاجرہ سے ہوئی تھی، لیکن یہ سعی ایک مخصوص جگہ میں ہے یعنی جہاں سبز نشانات ہیں اور بجلی کی ٹیوبیں لگی ہوئی ہیں اس کے درمیان دوڑنا سنت ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ کا بھی یہ مسلک ہے کہ ایک مخصوص جگہ کے درمیان دوڑنا سنت ہے۔
سارے بطن وادی میں سعی کرنا سنت نہیں بلکہ یہ اہل جاہلیت کا شعار تھا کہ وہ ساری وادی میں دوڑ لگاتے تھے ہمارے بعض کم علم مسلمان بھی ایسا کرتے ہیں۔
انھیں سمجھانا چاہیے کہ ساری وادی میں دوڑ لگانے کی ضرورت نہیں اور نہ عورتوں کو اس طرح کرنا چاہیے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3847]

Sahih Bukhari Hadith 3847 in Urdu