صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب قتل أبى جهل:
باب: (بدر کے دن) ابوجہل کا قتل ہونا۔
حدیث نمبر: 3962
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَنْظُرُ مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ , فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَدَ، قَالَ: أَأَنْتَ أَبُو جَهْلٍ؟ قَالَ: فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ، قَالَ: وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ , أَوْ رَجُلٍ قَتَلَهُ قَوْمُهُ؟ قَالَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ: أَنْتَ أَبُو جَهْلٍ.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اور دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا، مجھ سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان تیمی نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی ہے جو معلوم کرے کہ ابوجہل کا کیا حشر ہوا؟“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ حقیقت حال معلوم کرنے آئے تو دیکھا کے عفراء کے بیٹوں (معاذ اور معوذ رضی اللہ عنہما) نے اسے قتل کر دیا ہے اور اس کا جسم ٹھنڈا پڑا ہے۔ انہوں نے دریافت کیا، کیا تو ہی ابوجہل ہے؟ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کی ڈاڑھی پکڑ لی۔ ابوجہل نے کہا، کیا اس سے بھی بڑا کوئی آدمی ہے جسے تم نے آج قتل کر ڈالا ہے؟ یا (اس نے یہ کہا کہ کیا اس سے بھی بڑا) کوئی آدمی ہے جسے اس کی قوم نے قتل کر ڈالا ہے؟ احمد بن یونس نے (اپنی روایت میں) «أنت» ابوجھل کے الفاظ بیان کئے ہیں۔ یعنی انہوں نے یہ پوچھا، کیا تو ہی ابوجہل ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3962]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے جو پتا کر کے آئے کہ ابوجہل کا کیا حشر ہوا؟“ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حقیقتِ حال معلوم کرنے گئے تو دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اسے قتل کر دیا ہے اور اس کا جسم ٹھنڈا پڑا ہے۔ انہوں نے دریافت کیا: ”آیا تو ہی ابوجہل ہے؟“ انہوں نے اس کی داڑھی پکڑ لی تو ابوجہل نے کہا: ”اس سے بھی بڑا کوئی آدمی ہے تم نے آج قتل کیا ہو؟“ یا کہا: ”اس سے بھی بڑا کوئی آدمی ہے جسے اس کی قوم نے قتل کر ڈالا ہو؟“ احمد بن یونس رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں: ”کیا تو ہی ابوجہل ہے؟“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3962]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Bukhari Hadith 3962 in Urdu
سليمان بن طرخان التيمي ← أنس بن مالك الأنصاري