🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. باب غزوة موتة من أرض الشأم:
باب: غزوہ موتہ کا بیان جو سر زمین شام میں سنہ ۸ ھ میں ہوا تھا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4264
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ:" كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا حَيَّا ابْنَ جَعْفَرٍ قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ ذِي الْجَنَاحَيْنِ".
مجھ سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عمر بن علی نے بیان کیا ‘ ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ‘ ان سے عامر شعبی نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے لیے سلام بھیجتے تو السلام علیک یا ابن ذی الجناحین کہتے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4264]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← عامر الشعبي
ثقة ثبت
👤←👥عمر بن علي المقدمي، أبو حفص، أبو جعفر
Newعمر بن علي المقدمي ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة وكان يدلس كثيرا
👤←👥محمد بن أبي بكر المقدمي، أبو عبد الله
Newمحمد بن أبي بكر المقدمي ← عمر بن علي المقدمي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4264 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4264
حدیث حاشیہ:
اے دو پروں والے کے بےٹے! تجھ پر سلام ہو حضرت جعفر ؓ کے بیٹے کا نام عبداللہ تھا۔
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں فالمراد بالجناحین صفة ملکیة وقوة روحانیة أعطیھا جعفر یعنی سہیلی نے کہا کہ جناحین سے مراد وہ صفات ملکی وقوت روحانی ہے جو حضرت جعفر ؓ کو دی گئی۔
مگر وإذا لم یثبت خبر في بیان کیفیتھا فنؤمن بھا من غیر بحث عن حقیقتھا (فتح الباری)
یعنی جب ان پروں کی کیفیت کے بارے میں کوئی خبر ثابت نہیں تو ہم ان کی حقیقت کی بحث میں نہیں پڑتے بلکہ جیسا حدیث میں وارد ہوا اس پر ایمان لاتے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4264]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4264
حدیث حاشیہ:

جنگ موتہ میں حضرت زید بن حارثہ ؓ کی شہادت کے بعد حضرت جعفر ؓ نے لپک کر جھنڈا اٹھایا اور دشمنوں سے جنگ شروع کردی۔
جب جنگ شدت اختیار کر گئی تو وہ اپنے گھوڑے سے کود پڑے، لڑتے لڑتے دشمن کی ضرب سے ان کا دایاں ہاتھ کٹ گیا۔
اس کے بعد انہوں نے بائیں ہاتھ میں جھنڈا لے لیا اور اسے مسلسل بند رکھا یہاں تک کہ بایاں ہاتھ بھی کٹ گیا حتی کہ آپ شہید ہوگئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اللہ تعالیٰ نے انھیں دونوں بازوؤں کے عوض جنت میں ایسے دوبازو عطا فرمائے جن کے ذریعے سے وہ جہاں چاہتے ہیں اڑ کر پہنچ جاتے ہیں۔
"(سلسلة الأحادیث الصحیة: 226/3 رقم الحدیث 1226۔
)
اس لیے ان کا لقب جعفر طیار اور جعفر ذوالجناحین پڑگیا۔

ان دونوں پروں کی کیفیت کا بیان کسی حدیث میں نہیں ہے، اس لیے ہم اسے حقیقت پر محمول کرتے ہوئے ان پر ایمان لاتے ہیں، اور ان کی کیفیت اللہ کے سپردکرتے ہیں اور نہ اس کی کوئی تاویل ہی کرتے ہیں۔
بعض لوگ اس کی تاویل کرتے ہیں کہ اس سے مرادصفت ملکیہ اور قوت روحانیہ ہے جو حضرت جعفر ؓ کو عطا کی گئیں لیکن ہمیں اس تاویل سے ہرگز اتفاق نہیں ہے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4264]

Sahih Bukhari Hadith 4264 in Urdu