صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
84. باب مرض النبى صلى الله عليه وسلم ووفاته:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان۔
حدیث نمبر: Q4428
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ}.
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان «إنك ميت وإنهم ميتون * ثم إنكم يوم القيامة عند ربكم تختصمون» کہ ”آپ کو بھی مرنا ہے اور انہیں بھی مرنا ہے، پھر تم سب قیامت کے دن اپنے رب کے حضور میں جھگڑا کرو گے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: Q4428]
حدیث نمبر: 4428
وَقَالَ يُونُسُ: عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ:" يَا عَائِشَةُ، مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ، فَهَذَا أَوَانُ وَجَدْتُ انْقِطَاعَ أَبْهَرِي مِنْ ذَلِكَ السُّمِّ".
اور یونس نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض وفات میں فرماتے تھے کہ خیبر میں (زہر آلود) لقمہ جو میں نے اپنے منہ میں رکھ لیا تھا، اس کی تکلیف آج بھی میں محسوس کرتا ہوں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میری شہ رگ اس زہر کی تکلیف سے کٹ جائے گی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4428]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اس بیماری میں جس میں آپ کی وفات ہوئی، فرمایا کرتے تھے: ”اے عائشہ! اس کھانے کا درد میں برابر محسوس کر رہا ہوں جو میں نے غزوہ خیبر کے وقت کھایا تھا، اس وقت میں اس زہر کے سبب اپنی شہ رگ کٹتی ہوئی محسوس کرتا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4428]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4428 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4428
حدیث حاشیہ:
1۔
فتح خیبر کے وقت ایک یہودی عورت نے بکری کے گوشت میں زہرملا کررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور ہدیہ بھیجا۔
آپ نے لقمہ ابھی منہ میں ڈالا تھا کہ بذریعہ وحی آپ کو خبر دار کر دیا گیا۔
اس حدیث میں اس واقعے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
2۔
ابہری ایک رگ ہے جو پیٹھ سے ہو کر گزرتی ہے جس کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔
وہ پھٹتی ہے تو موت واقع ہو جاتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات کے قریب اس کا علم ہوا۔
اس اعتبار سے آپ شہید ہیں اگرچہ آپ بستر پر فوت ہوئے ہیں۔
آپ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ وہ زہر اب مغلوب اور چھپا ہوا تھا جب کمزوری آگئی اور قوت مدافعت نہ رہی تو طبیعت پر اس کا غلبہ ہو گیا اور اس کا درد محسوس ہونے لگا۔
واللہ اعلم۔
1۔
فتح خیبر کے وقت ایک یہودی عورت نے بکری کے گوشت میں زہرملا کررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور ہدیہ بھیجا۔
آپ نے لقمہ ابھی منہ میں ڈالا تھا کہ بذریعہ وحی آپ کو خبر دار کر دیا گیا۔
اس حدیث میں اس واقعے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
2۔
ابہری ایک رگ ہے جو پیٹھ سے ہو کر گزرتی ہے جس کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔
وہ پھٹتی ہے تو موت واقع ہو جاتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات کے قریب اس کا علم ہوا۔
اس اعتبار سے آپ شہید ہیں اگرچہ آپ بستر پر فوت ہوئے ہیں۔
آپ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ وہ زہر اب مغلوب اور چھپا ہوا تھا جب کمزوری آگئی اور قوت مدافعت نہ رہی تو طبیعت پر اس کا غلبہ ہو گیا اور اس کا درد محسوس ہونے لگا۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4428]
Sahih Bukhari Hadith 4428 in Urdu