🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. بَابُ قَوْلُهُ: {وَمَا لَكُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ} إِلَى: {الظَّالِمِ أَهْلُهَا} :
باب: آیت کی تفسیر ”اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں جہاد نہیں کرتے اور ان لوگوں کی مدد کے لیے نہیں لڑتے جو کمزور ہیں، مردوں میں سے اور عورتوں اور لڑکوں میں سے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4587
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كُنْتُ أَنَا وَأُمِّي مِنَ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں اور میری والدہ «مستضعفين‏» (کمزوروں) میں سے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4587]
حضرت عبیداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں اور میری والدہ کمزور لوگوں میں سے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4587]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عبيد الله بن أبي يزيد المكي
Newعبيد الله بن أبي يزيد المكي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة كثير الحديث
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عبيد الله بن أبي يزيد المكي
ثقة حافظ حجة
👤←👥عبد الله بن محمد الجعفي، أبو جعفر
Newعبد الله بن محمد الجعفي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4587 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4587
حدیث حاشیہ:
ان کی والدہ کا نام لبابہ بنت حارث ؓ تھا جو حضرت میمونہ ؓ کی بہن تھیں۔
یہ دونوں دل سے مسلمان ہو گئے تھے مگر مکہ میں کافروں کے ہاتھوں میں پھنسے ہوئے تھے، ہجرت نہیں کر سکتے تھے، ان کے بارے میں آیت نازل ہوئی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4587]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4587
حدیث حاشیہ:
1۔
عنوان میں مذکورہ آیت کریمہ میں مسلمانوں کو کمزور ناتواں مسلمانوں کی مدد کرنے اور ظالموں سے جہاد کرکے انھیں ظلم واستبداد سے بچانے کی ترغیب دی جارہی ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ اور ان کی والدہ بھی ان کمزور مسلمانوں سے تھیں جن کی مدد کرنا مسلمانوں پر ضروری تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے لوگوں کے حق میں رکوع سے سراٹھانے کے بعد یوں دعا فرماتے تھے:
”اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور دوسرے ناتواں مسلمانوں کے زمانے میں قحط پڑا تھا۔
“ (صحیح البخاري، الأدب، حدیث: 6200)
پھر جب یہ کمزور ناتواں مسلمان کفار مکہ سے رہائی پاکر مدینہ طیبہ آگئے تو آپ نے کفار کے خلاف بد دعا کرنا چھوڑدی۔
2۔
آخر میں امام بخاری ؒ نے اس صورت میں آئندہ آنے والے چند الفاظ کی لغوی تشریح کی ہے۔
تفصیل کے لیے ان الفاظ کے سیاق وسباق کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی بھی تفسیر قرآن کا مطالعہ مفید رہے گا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4587]

Sahih Bukhari Hadith 4587 in Urdu