🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب: {وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا أو إعراضا} :
باب: آیت کی تفسیر ”اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے ظلم زیادتی یا بے رغبتی کا خوف ہو تو ان کو باہمی صلح کر لینے میں کوئی گناہ نہیں کیونکہ صلح بہتر ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4601
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: شِقَاقٌ: تَفَاسُدٌ، وَأُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ: هَوَاهُ فِي الشَّيْءِ يَحْرِصُ عَلَيْهِ كَالْمُعَلَّقَةِ، لَا هِيَ أَيِّمٌ، وَلَا ذَاتُ زَوْجٍ نُشُوزًا بُغْضًا.
‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا (آیت میں) «شقاق» کے معنی فساد اور جھگڑا ہے۔ «وأحضرت الأنفس الشح» ہر نفس کو اپنے فائدے کا لالچ ہوتا ہے۔ «كالمعلقة» یعنی نہ تو وہ بیوہ رہے اور نہ شوہر والی ہو۔ «نشوزا» بمعنی «بغضا» عداوت کے معنی میں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4601]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4601
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا سورة النساء آية 128، قَالَتْ:" الرَّجُلُ تَكُونُ عِنْدَهُ الْمَرْأَةُ لَيْسَ بِمُسْتَكْثِرٍ مِنْهَا، يُرِيدُ أَنْ يُفَارِقَهَا، فَتَقُولُ: أَجْعَلُكَ مِنْ شَأْنِي فِي حِلٍّ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي ذَلِكَ".
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیت «وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا أو إعراضا‏‏‏.‏» اور کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے زیادتی یا بے رغبتی کا خوف ہو کے متعلق کہا کہ ایسا مرد جس کے ساتھ اس کی بیوی رہتی ہے، لیکن شوہر کو اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں، بلکہ وہ اسے جدا کر دینا چاہتا ہے، اس پر عورت کہتی ہے کہ میں اپنی باری اور اپنا (نان نفقہ) معاف کر دیتی ہوں (تم مجھے طلاق نہ دو) تو ایسی صورت کے متعلق یہ آیت اسی باب میں اتری۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4601]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥محمد بن مقاتل المروزي، أبو الحسن
Newمحمد بن مقاتل المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4601 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4601
حدیث حاشیہ:
جورو مرد اگر صلح کر کے کوئی بات ٹھہرا لیں تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
مثلا جور و اپنی باری معاف کردے یا اور کوئی بات پڑ جائے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4601]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4601
حدیث حاشیہ:

اس آیت کی عملی تفسیر درج ذیل واقعے سے ہوتی ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں:
حضرت سودہ ؓ کو محسوس ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے طلاق دینے کا ارادہ رکھتے ہیں تو انھوں نے آپ سے عرض کی:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے طلاق نہ دیں بلکہ اپنے پاس ہی رکھیں اور میں اپنی باری حضرت عائشہ ؓ کو دے دیتی ہوں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایساہی کیا۔
اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔
گویا میاں بیوی جس شرط پر صلح کرلیں وہ جائز ہے۔
(النساء: 128/4)

بہرحال اگر بیوی اپنی باری اور دیگر حقوق سے دستبردار ہو جائے تو وہ اس کے حقوق ختم ہوجائیں گے، چنانچہ ایک دوسری روایت میں مذید وضاحت ہے کہ عورت اپنے خاوند کی بے رخی کو دیکھ کرکہتی ہے:
مجھے اپنے پاس ہی رکھو اور طلاق نہ دو، کسی اور سے شادی بھی کرلو، میرے نان ونفقہ سے بھی آپ بری الذمہ ہیں اورمیری باری کے موقع پر میرے ہاں شب باشی بھی نہ کریں۔
(جامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث: 3040)
اس کے باوجود خاوند کو چاہیے کہ وہ کسی صورت میں بھی عدل و انصاف کا دامن اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4601]

Sahih Bukhari Hadith 4601 in Urdu