🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب قوله: {الذين جعلوا القرآن عضين} :
باب: آیت کی تفسیر ”جنہوں نے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کر رکھے ہیں“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4706
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، كَمَا أَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِينَ سورة الحجر آية 90، قَالَ:" آمَنُوا بِبَعْضٍ، وَكَفَرُوا بِبَعْضٍ، الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى".
مجھ سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوظبیان حصین بن جندب نے بیان کیا، اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ آیت «كما أنزلنا على المقتسمين‏» میں سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں کچھ قرآن انہوں نے مانا کچھ نہ مانا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4706]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥الحصين بن جندب المذحجي، أبو ظبيان
Newالحصين بن جندب المذحجي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← الحصين بن جندب المذحجي
ثقة حافظ
👤←👥عبيد الله بن موسى العبسي، أبو محمد
Newعبيد الله بن موسى العبسي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة يتشيع
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4706 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4706
حدیث حاشیہ:
حضرت امام بخاری نے لفظ مقتسمین کو قسم سے رکھا ہے۔
بعضوں نے کہا یہ قسمت سے نکلا ہے جس کے معنی بانٹنے کے ہیں یعنی جن لوگوں نے قرآن کو تکا بوٹی کر لیا تھا، اس کے ٹکڑے کر ڈالے تھے۔
اس کے کئی مطلب بیان کئے گئے ہیں ایک یہ کہ پیغمبر کو کوئی جادوگر کہتا کوئی مجنوں کوئی کاہن۔
دوسرے یہ کہ قرآن سے ٹھٹھا کرتے۔
مجاہد نے کہا یہود مراد ہیں جو اللہ کی کچھ کتاب پر ایمان لاتے تھے اور کچھ نہیں مانتے تھے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4706]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4706
حدیث حاشیہ:

ان احادیث میں ﴿مُقْتَسِمِينَ﴾ سے مراد یہودو نصاری بیان کیا گیا ہے۔
واقعی انھوں نے اپنی مذہبی کتاب کے بعض حصوں کو مان کر اور بعض کا انکار کر کے نیز بعض آیات چھپا کر اور بعض میں تحریف کر کے بیسیوں فرقے بنا ڈالے تھے۔

کچھ حضرات کا کہنا ہے کہ اس سے مراد کفار مکہ ہیں جن کا قرآن کریم کے متعلق مطالبہ تھا کہ جن آیات میں ہمارے بتوں کی توہین ہے انھیں نکال دیا جائے باقی آیات ہم مان لیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان سب پر اپنے عذاب کا کوڑا برسایا وہ اہل کتاب ہوں یا اہل مکہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کردار کے حاملین کو معاف نہیں کیا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4706]

Sahih Bukhari Hadith 4706 in Urdu