صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب:
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: Q4882-4
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: جَعَلَكُمْ مُسْتَخْلَفِينَ: مُعَمَّرِينَ فِيهِ، مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ، مِنَ الضَّلَالَةِ إِلَى الْهُدَى: فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ، وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ: جُنَّةٌ وَسِلَاحٌ، مَوْلَاكُمْ أَوْلَى بِكُمْ لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ، لِيَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ، يُقَالُ: الظَّاهِرُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا، وَالْبَاطِنُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا، أَنْظِرُونَا: انْتَظِرُونَا.
مجاہد نے کہا «جعلكم مستخلفين فيه» یعنی جس نے زمین میں تم کو بسایا، جانشین کیا، آباد کیا۔ «من الظلمات إلى النور» یعنی گمراہی سے ہدایت کی طرف۔ «ومنافع للناس» یعنی تم لوہے سے ڈھال اور ہتھیار وغیرہ بناتے ہو۔ «مولاكم» یعنی آگ تمہارے لیے زیادہ سزاوار ہے۔ «لئلا يعلم أهل الكتاب» تاکہ اہل کتاب جان لیں ( «الا» زائد ہے)۔ «الظاهر» علم کی رو سے۔ «الباطن» علم کی رو سے۔ «أنظرونا» (بفتح ہمزہ و کسرہ ظاء ایک قرآت ہے) یعنی ہمارا انتظار کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4882-4]
حدیث نمبر: Q4882-3
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: يُحَادُّونَ: يُشَاقُّونَ اللَّهَ، كُبِتُوا: أُخْزُوا مِنَ الْخِزْيِ، اسْتَحْوَذَ: غَلَبَ.
مجاہد نے کہا «يحادون الله» کا معنی اللہ کی مخالفت کرتے ہیں۔ «كبتوا» ذلیل کئے گئے۔ «استحوذ» غالب ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4882-3]
حدیث نمبر: Q4882-2
n
. [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4882-2]
حدیث نمبر: Q4882
الْجَلاَءَ: الإِخْرَاجُ مِنْ أَرْضٍ إِلَى أَرْضٍ.
لفظ «الجلاء» کے معنی ایک زمین سے دوسری زمین کی طرف نکال دینا جسے جلا وطنی کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4882]
حدیث نمبر: 4882
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ:" سُورَةُ التَّوْبَةِ، قَالَ: التَّوْبَةُ هِيَ الْفَاضِحَةُ مَا زَالَتْ تَنْزِلُ وَمِنْهُمْ وَمِنْهُمْ حَتَّى ظَنُّوا أَنَّهَا لَنْ تُبْقِيَ أَحَدًا مِنْهُمْ إِلَّا ذُكِرَ فِيهَا، قَالَ: قُلْتُ: سُورَةُ الْأَنْفَالِ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي بَدْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: سُورَةُ الْحَشْرِ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي بَنِي النَّضِيرِ".
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوبشر جعفر نے خبر دی، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سورۃ التوبہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا یہ سورۃ التوبہ کی ہے یا فضیحت کرنے والی ہے اس سورت میں برابر یہی اترتا رہا بعض لوگ ایسے ہیں اور بعض لوگ ایسے ہیں یہاں تک کہ لوگوں کو گمان ہوا یہ سورت کسی کا کچھ بھی نہیں چھوڑے گی بلکہ سب کے بھید کھول دے گی۔ بیان کیا کہ میں نے سورۃ الانفال کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ یہ جنگ بدر کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ بیان کیا کہ میں نے سورۃ الحشر کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ قبیلہ بنو نضیر کے یہود کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4882]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ”آپ سورہ توبہ کے متعلق کیا کہتے ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”یہ سورہ توبہ تو رسوا کرنے والی ہے۔ اس سورت میں تو مسلسل یہی نازل ہوتا رہا کہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں، ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں، حتی کہ لوگوں کو گمان ہوا کہ یہ سورت کسی کا کچھ بھی نہیں چھوڑے گی بلکہ سب کے بھید کھول دے گی۔“ میں نے سورہ انفال کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ ”یہ جنگ بدر کے متعلق نازل ہوئی تھی۔“ میں نے سورہ حشر کے متعلق عرض کیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ یہود کے قبیلہ بنو نضیر کے متعلق نازل ہوئی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4882]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Bukhari Hadith 4882 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي