صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ الْخُلْعِ وَكَيْفَ الطَّلاَقُ فِيهِ:
باب: خلع کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 5274
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ،" أَنَّ أُخْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ بِهَذَا، وَقَالَ: تَرُدِّينَ حَدِيقَتَهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَرَدَّتْهَا، وَأَمَرَهُ يُطَلِّقْهَا". وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَطَلِّقْهَا.
ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد طحان نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے کہ عبداللہ بن ابی (منافق) کی بہن جمیلہ رضی اللہ عنہا (جو ابی کی بیٹی تھی) نے یہ بیان کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا تھا کہ کیا تم ان (ثابت رضی اللہ عنہ) کا باغ واپس کر دو گی؟ انہوں نے عرض کیا ہاں کر دوں گی۔ چنانچہ انہوں نے باغ واپس کر دیا اور انہوں نے ان کے شوہر کو حکم دیا کہ انہیں طلاق دے دیں۔ اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا کہ ان سے خالد نے، ان سے عکرمہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور (اس روایت میں بیان کیا کہ) ان کے شوہر (ثابت رضی اللہ عنہ) نے انہیں طلاق دے دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5274]
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ابی کی بہن نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔ پھر یہ حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو اس کا باغ واپس کرے گی؟“ عرض کیا: ”جی ہاں۔“ چنانچہ اس نے باغ واپس کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اسے آزاد کر دے۔ ابراہیم بن طہمان رحمہ اللہ نے خالد رحمہ اللہ عن عکرمہ رحمہ اللہ کے ذریعے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو بیان کیا، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے طلاق دے دو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5274]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Bukhari Hadith 5274 in Urdu
خالد الحذاء ← عكرمة مولى ابن عباس