صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب التلبينة للمريض:
باب: مریض کے لیے حریرہ پکانا۔
حدیث نمبر: 5690
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ" أَنَّهَا كَانَتْ تَأْمُرُ بِالتَّلْبِينَةِ، وَتَقُولُ: هُوَ الْبَغِيضُ النَّافِعُ".
ہم سے فروہ بن ابی مغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ وہ تلبینہ پکانے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ اگرچہ وہ (مریض کو) ناپسند ہوتا ہے لیکن وہ اس کو فائدہ دیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5690]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ تلبینہ تیار کرنے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں: ”اگرچہ کھانے میں پسندیدہ نہیں ہوتا لیکن وہ فائدہ مند ضرور ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5690]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5690 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5690
حدیث حاشیہ:
تلبینہ میٹھا دلیہ جو روا گھی میٹھا ملا کر پکایا جائے جسے حریرہ بھی کہتے ہیں۔
تلبینہ میٹھا دلیہ جو روا گھی میٹھا ملا کر پکایا جائے جسے حریرہ بھی کہتے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5690]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5690
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
”تم ناپسندیدہ اور مفید چیز تلبینہ کو اپناؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جب کوئی بیمار ہو جاتا تو تلبینہ کی ہنڈیا آگ پر چڑھی رہتی حتی کہ مریض کا معاملہ ایک طرف لگ جاتا، یعنی وہ شفایاب ہو جاتا وہ اللہ کو پیارا ہو جاتا۔
(مسند أحمد: 138/6) (2)
حساء اور تلبینہ دونوں ایک ہیں۔
یہ زود ہضم ہوتا ہے اور اس کے استعمال کرنے کے بعد عموماً نیند آ جاتی ہے۔
واللہ أعلم
(1)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
”تم ناپسندیدہ اور مفید چیز تلبینہ کو اپناؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جب کوئی بیمار ہو جاتا تو تلبینہ کی ہنڈیا آگ پر چڑھی رہتی حتی کہ مریض کا معاملہ ایک طرف لگ جاتا، یعنی وہ شفایاب ہو جاتا وہ اللہ کو پیارا ہو جاتا۔
(مسند أحمد: 138/6) (2)
حساء اور تلبینہ دونوں ایک ہیں۔
یہ زود ہضم ہوتا ہے اور اس کے استعمال کرنے کے بعد عموماً نیند آ جاتی ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5690]
Sahih Bukhari Hadith 5690 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق