🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب التلبينة للمريض:
باب: مریض کے لیے حریرہ پکانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5690
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ" أَنَّهَا كَانَتْ تَأْمُرُ بِالتَّلْبِينَةِ، وَتَقُولُ: هُوَ الْبَغِيضُ النَّافِعُ".
ہم سے فروہ بن ابی مغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ وہ تلبینہ پکانے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ اگرچہ وہ (مریض کو) ناپسند ہوتا ہے لیکن وہ اس کو فائدہ دیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5690]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ تلبینہ تیار کرنے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں: اگرچہ کھانے میں پسندیدہ نہیں ہوتا لیکن وہ فائدہ مند ضرور ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5690]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥علي بن مسهر القرشي، أبو الحسن
Newعلي بن مسهر القرشي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة
👤←👥فروة بن أبي المغراء الكندي، أبو القاسم
Newفروة بن أبي المغراء الكندي ← علي بن مسهر القرشي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5690 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5690
حدیث حاشیہ:
تلبینہ میٹھا دلیہ جو روا گھی میٹھا ملا کر پکایا جائے جسے حریرہ بھی کہتے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5690]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5690
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
تم ناپسندیدہ اور مفید چیز تلبینہ کو اپناؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جب کوئی بیمار ہو جاتا تو تلبینہ کی ہنڈیا آگ پر چڑھی رہتی حتی کہ مریض کا معاملہ ایک طرف لگ جاتا، یعنی وہ شفایاب ہو جاتا وہ اللہ کو پیارا ہو جاتا۔
(مسند أحمد: 138/6) (2)
حساء اور تلبینہ دونوں ایک ہیں۔
یہ زود ہضم ہوتا ہے اور اس کے استعمال کرنے کے بعد عموماً نیند آ جاتی ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5690]

Sahih Bukhari Hadith 5690 in Urdu