صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ الْبَرَانِسِ:
باب: برانس یعنی ٹوپی پہننا۔
حدیث نمبر: 5802
وَقَالَ لِي مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: رَأَيْتُ عَلَى أَنَسٍ بُرْنُسًا أَصْفَرَ مِنْ خَزٍّ
اور کہا مجھ سے مسدد نے اور کہا ہم سے معتمر نے کہ میں نے اپنے باپ سے سنا، کہا انہوں نے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ پر ریشمی زرد ٹوپی کو دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5802]
حضرت معتمر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے فرمایا: ”میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ پر زرد رنگ کی ریشمی ٹوپی دیکھی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5802]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5802 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5802
حدیث حاشیہ:
بعض اسلاف کے نزدیک اوورکوٹ پہننا مکروہ ہے کیونکہ اسے یہودونصاریٰ کے راہب پہنتے ہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ کو اس موقف سے اتفاق نہیں ہے۔
امام مالک سے پوچھا گیا:
کیا اوورکوٹ پہننا جائز ہے؟ تو انہوں نے فرمایا:
اس میں کوئی حرج نہیں۔
کہا گیا:
یہ تو عیسائی پہنتے ہیں، انہوں نے فرمایا:
عیسائی وہاں پہنتے ہیں جہاں ان کا علاقہ ہے۔
(فتح الباري: 335/10)
بعض اسلاف کے نزدیک اوورکوٹ پہننا مکروہ ہے کیونکہ اسے یہودونصاریٰ کے راہب پہنتے ہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ کو اس موقف سے اتفاق نہیں ہے۔
امام مالک سے پوچھا گیا:
کیا اوورکوٹ پہننا جائز ہے؟ تو انہوں نے فرمایا:
اس میں کوئی حرج نہیں۔
کہا گیا:
یہ تو عیسائی پہنتے ہیں، انہوں نے فرمایا:
عیسائی وہاں پہنتے ہیں جہاں ان کا علاقہ ہے۔
(فتح الباري: 335/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5802]
Sahih Bukhari Hadith 5802 in Urdu