صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب قول الله تعالى: {يريدون أن يبدلوا كلام الله} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الفتح) ارشاد ”یہ گنوار چاہتے ہیں کہ اللہ کا کلام بدل دیں“۔
حدیث نمبر: 7497
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ:" هَذِهِ خَدِيجَةُ أَتَتْكَ بِإِنَاءٍ فِيهِ طَعَامٌ، أَوْ إِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ، فَأَقْرِئْهَا مِنْ رَبِّهَا السَّلَامَ، وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ، لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ".
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ (جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یا رسول اللہ!) یہ خدیجہ رضی اللہ عنہا جو آپ کے پاس برتن میں کھانا یا پانی لے کر آتی ہیں انہیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہئیے اور انہیں خولدار موتی کے ایک محل کی جنت میں خوشخبری سنائیے جس میں نہ شور ہو گا اور نہ کوئی تکلیف ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7497]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !“) ”یہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس برتن لے کر آ رہی ہیں جس میں کھانا یا پینے کا پانی ہے۔ انہیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہہ دیں اور انہیں جنت میں ایسے گھر کی بشارت دیں جو موتیوں سے بنا ہوا ہے۔ اس میں کسی قسم کا شور و غل اور تھکاوٹ نہیں ہو گی۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7497]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7497 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7497
حدیث حاشیہ:
یہاں بھی اللہ کا ایک کلام بحق حضرت خدیجہ ؓ نقل ہوا یہی باب سے مطابقت ہے۔
حضرت حدیجہؓ کی فضیلت ثابت ہوئی۔
خدیجہ بنت خویلد ؓ قریش کی بہت مالدار شریف ترین خاتون جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سےخود رغبت سےنکاح کیا۔
آپ عرصہ سے بیوہ تھیں بعد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ اس وفاشعاری سے زندگی گزاری کہ جس کی مثال ملنی مشکل ہے۔
65سال کی عمر میں ہجرت نبوی سےتین سال پہلے رمضان شریف میں انتقال فرمایا اورمکہ کےمشہور قبرستان جیحون میں آپ کو دفن کیا گیا۔
آپ کی جدائی کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ترین صدمہ ہوا۔
إنا للہ و إناإلیه راجعون۔
یہاں بھی اللہ کا ایک کلام بحق حضرت خدیجہ ؓ نقل ہوا یہی باب سے مطابقت ہے۔
حضرت حدیجہؓ کی فضیلت ثابت ہوئی۔
خدیجہ بنت خویلد ؓ قریش کی بہت مالدار شریف ترین خاتون جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سےخود رغبت سےنکاح کیا۔
آپ عرصہ سے بیوہ تھیں بعد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ اس وفاشعاری سے زندگی گزاری کہ جس کی مثال ملنی مشکل ہے۔
65سال کی عمر میں ہجرت نبوی سےتین سال پہلے رمضان شریف میں انتقال فرمایا اورمکہ کےمشہور قبرستان جیحون میں آپ کو دفن کیا گیا۔
آپ کی جدائی کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ترین صدمہ ہوا۔
إنا للہ و إناإلیه راجعون۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7497]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7497
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کا ایک کلام بحق سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان ہوا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے مخاطب ہو کرحضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو سلام اور بشارت ارسال کی۔
اس میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی فضیلت ہے کہ خود اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ کو سلام بھیجتا ہے۔
2۔
اس حدیث میں بھی اللہ تعالیٰ کا ایک کلام بیان ہواہے جو اس کی مشیت سے متعلق ہے اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنے کلام سے شرف یاب کرتا ہے اور یہ کلام غیر قرآن اور غیر مخلوق ہے۔
وھو المقصود۔
1۔
اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کا ایک کلام بحق سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان ہوا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے مخاطب ہو کرحضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو سلام اور بشارت ارسال کی۔
اس میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی فضیلت ہے کہ خود اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ کو سلام بھیجتا ہے۔
2۔
اس حدیث میں بھی اللہ تعالیٰ کا ایک کلام بیان ہواہے جو اس کی مشیت سے متعلق ہے اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنے کلام سے شرف یاب کرتا ہے اور یہ کلام غیر قرآن اور غیر مخلوق ہے۔
وھو المقصود۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7497]
Sahih Bukhari Hadith 7497 in Urdu
أبو زرعة بن عمرو البجلي ← أبو هريرة الدوسي