صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
145. باب سنة الجلوس فى التشهد:
باب: تشہد میں بیٹھنے کا مسنون طریقہ۔
حدیث نمبر: Q827
وَكَانَتْ أُمُّ الدَّرْدَاءِ تَجْلِسُ فِي صَلَاتِهَا جِلْسَةَ الرَّجُلِ وَكَانَتْ فَقِيهَةً.
ام الدرداء رضی اللہ عنہا فقیہہ تھیں اور وہ نماز میں (بوقت تشہد) مردوں کی طرح بیٹھتی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: Q827]
صحیح بخاری کی حدیث نمبر Q827 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، صحیح بخاری Q827
عطاء بن ابی رباح (تابعی) نے فرمایا:
”…عورت کی ہیئت مرد کی طرح نہیں ہے، اگر وہ (عورت) اسے ترک کر دے تو کوئی حرج نہیں ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه ج1 ص239 ح2474، الحديث حضرو: 13 ص21]
حماد بن ابی سلیمان نے کہا:
عورت کی جیسے مرضی ہو (نماز میں) بیٹھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه ج1 ص271 ح2790 و سنده صحيح]
حماد کے استاذ ابراہیم نخعی نے کہا:
عورت نماز میں اس طرح بیٹھے جیسے مرد بیٹھتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه ج1 ص270 ح2788 و سنده صحيح]
ام الدرداء رحمہما اللہ نماز میں مرد کی طرح بیٹھتی تھیں۔ [صحيح بخاري قبل ح827، مصنف ابن ابي شيبه ج1 ص270 ح2785 و سنده قوي]
۔۔۔ اصل مضمون دیکھیں۔۔۔
فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
”…عورت کی ہیئت مرد کی طرح نہیں ہے، اگر وہ (عورت) اسے ترک کر دے تو کوئی حرج نہیں ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه ج1 ص239 ح2474، الحديث حضرو: 13 ص21]
حماد بن ابی سلیمان نے کہا:
عورت کی جیسے مرضی ہو (نماز میں) بیٹھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه ج1 ص271 ح2790 و سنده صحيح]
حماد کے استاذ ابراہیم نخعی نے کہا:
عورت نماز میں اس طرح بیٹھے جیسے مرد بیٹھتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه ج1 ص270 ح2788 و سنده صحيح]
ام الدرداء رحمہما اللہ نماز میں مرد کی طرح بیٹھتی تھیں۔ [صحيح بخاري قبل ح827، مصنف ابن ابي شيبه ج1 ص270 ح2785 و سنده قوي]
۔۔۔ اصل مضمون دیکھیں۔۔۔
فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
[فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 77]
الشيخ حافظ مبشر احمد رباني رحمہ الله، صحيح بخاری Q827
➌ حالت سجدہ میں مردوں کا اپنی رانوں کو پیٹ سے دور رکھنا اور عورتوں کا سمٹ کر سجدہ کرنا، یہ حنفی علماء کے نزدیک ایک مرسل حدیث کی بنیاد پر ہے، جس میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو عورتوں کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سجدہ کرو تو اپنے جسم کا کچھ حصہ زمین سے ملا لیا کرو کیونکہ عورتوں کا حکم اس بارے میں مردوں جیسا نہیں۔“
علامہ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«مُرْسَلٌ لَا حُجَّةَ فِيْهِ رَوَاهُ اَبُوْ دَاؤُدَ فِي الْمَرَاسِيْلِ» [صفة صلاة النبى ص/89]
”یہ روایت مرسل ہے، جو قابل حجت نہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اسے ”مراسیل“ میں یزید بن ابی حبیب سے روایت کیا ہے۔“
لیکن یہ روایت منقطع ہے اور اس کی سند میں موجود ایک راوی ”سالم“ محدثین کے نزدیک متروک ہے۔
علامہ ابن الترکمانی حنفی نے اس روایت کے متعلق تفصیل سے لکھا ہے۔ [الجوهر النقي على السنن الكبري للبيهقي 2/ 223]
اس کے متعلق حنفی علماء ایک اور روایت پیش کرتے ہیں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں سے چپکا لے، اس طرح کہ اس کے لیے زیادہ سے زیادہ پردے کا موجب ہو۔“ [بيهقي فى السنن الكبريٰ 222/2، 223]
اس روایت کے متعلق خود امام بیہقی رحمہ اللہ نے صراحت کر دی ہے کہ اس جیسی ضعیف روایت سے استدلال کرنا صحیح نہیں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک اثر یہ بھی پیش کیا جاتا ہے:
«اِنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ نِسَاءَهُ يَتَرَبَّعْنَ فِي الصَّلَاةِ» [مسائل أحمد لابنه عبدالله ص/71]
”وہ اپنی عورتوں کو حکم دیتے کہ وہ نماز میں چار زانوں بیٹھیں“۔
لیکن اس کی سند میں عبداللہ بن عمر العمری راوی ضعیف ہے۔ [تقريب التهذيب 182]
پس معلوم ہوا کہ احناف کے ہاں عورتوں کے سجدہ کر نے کا مروج طریقہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں مگر اس طریقے کے خلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد ارشاد مروی ہیں، چند ایک یہاں نقل کئے جاتے ہیں:
➊ «لَايَنْبَسِطْ اَحَدُكُمْ ذِرَعَيْهِ اِنْبِسَاطَ الْكَلْبِ» [بخاري، كتاب الأذان: باب لايفترش زراعيه فى السجود 822]
”تم میں سے کوئی بھی حالتِ سجدہ میں اپنے دونوں بازو کتے کی طرح نہ بچھائے۔“
➋ «اِعْتَدِلُوْا فِي السُّجُودِ، وَلَا يَفْتَرِشُ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ» [أبوداؤد، كتاب الصلاة: باب صفة السجود 897]
”سجدہ اطمینان سے کرو اور تم میں سے کوئی بھی حالت سجدہ میں اپنے بازو کتے کی طرح نہ بچھائے۔“
غرض نماز کے اندر ایسے کاموں سے روکا گیا ہے جو جانوروں کی طرح کے ہوں۔
امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں حیوانات سے مشابہت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ اس طرح بیٹھنا جس طرح اونٹ بیٹھتا ہے یا لومڑی کی طرح اِدھر اُدھر دیکھنا یا جنگلی جانوروں کی طرح افتراش یا کتے کی طرح اقعاء یا کوے کی طرح ٹھونگے مارنا یا سلام کے وقت شریر گھوڑوں کی دم کی طرح ہاتھ اٹھانا یہ سب افعال منع ہیں۔“ [زاد المعاد1/ 116]
پس ثابت ہوا کہ سجدہ کا اصل مسنون طریقہ وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا تھا اور کتب احادیث میں یوں مروی ہے:
«إِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلَا قَابِضِهِمَا» [بخاري، كتاب الأذان: باب سنة الجلوس فى التشهد 828]
“ جب آپ سجدہ کرتے تو اہنے ہاتھوں کو زمین پر نہ بچھاتے اور نہ اپنے پہلوؤں سے ہی ملاتے تھے۔“
قرآن مجید میں جس مقام پر نماز کا حکم وارد ہوا ہے اس میں سے کسی ایک مقام پر بھی اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں کے طریقہ نماز میں فرق بیان نہیں کیا۔ دوسری بات یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کسی صحیح حدیث سے ہیت نماز کا فرق مروی نہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد رسالت سے جملہ امہات المؤمنین، صحابیات اور احادیث نبویہ پر عمل کرنے والی خواتین کا طریقہ نماز وہی رہا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہوتا تھا۔ چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے بسند صحیح ام درداء رضی اللہ عنہا کے متعلق نقل کیا ہے:
«انهاكانت تجلس فى صلاتها جلسة الرجل و كانت فقيهة» [التاريخ الصغير للبخاري 90]
”وہ نماز میں مردوں کی طرح بیٹھتی تھیں اور وہ فقیہ تھیں۔“
چوتھی بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم عام ہے:
“ اس طرح نماز پڑھو، جیسے مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو۔“ [بخاري: 6008]
اس حکم کے عموم میں عورتیں بھی شامل ہیں۔
پانچویں یہ کہ سلف صالحین یعنی خلفائے راشدین، صحاب کرام، تابعین، تبع تابعین، محدثین اور صلحائے امت میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو دلیل کے ساتھ یہ دعوٰی کرتا ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں اور عورتوں کی نماز میں فرق کیا ہے
بلکہ امام ابوحنیفہ کے استاد امام ابراہیم نخعی سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے:
«تَفْعَلُ الْمَرْأَةُ فِي الصَّلَاةِ كَمَا يَفْعَلُ الرَّجُلُ» [ابن أبى شيبة 2/75/1]
”نماز میں عورت بھی بالکل ویسے ہی کرے جیسے مرد کرتا ہے۔“
جن علماء نے عورتوں کا نماز میں تکبیر کے لیے کندھوں تک ہاتھ اٹھانا، قیام میں سینے پر ہاتھ باندھنا اور سجدے میں زمین کے ساتھ چپک جانا موجب ستر بیان کیا ہے وہ دراصل قیاس فاسد کی بنا پر ہے، کیونکہ جب اس کے متعلق قرآن و سنت خاموش ہیں تو کسی عالم کو یہ حق کہاں پہنچتا ہے کہ وہ اپنی من مانی کر کے ازخود دین میں اضافہ کرے؟
علامہ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«مُرْسَلٌ لَا حُجَّةَ فِيْهِ رَوَاهُ اَبُوْ دَاؤُدَ فِي الْمَرَاسِيْلِ» [صفة صلاة النبى ص/89]
”یہ روایت مرسل ہے، جو قابل حجت نہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اسے ”مراسیل“ میں یزید بن ابی حبیب سے روایت کیا ہے۔“
لیکن یہ روایت منقطع ہے اور اس کی سند میں موجود ایک راوی ”سالم“ محدثین کے نزدیک متروک ہے۔
علامہ ابن الترکمانی حنفی نے اس روایت کے متعلق تفصیل سے لکھا ہے۔ [الجوهر النقي على السنن الكبري للبيهقي 2/ 223]
اس کے متعلق حنفی علماء ایک اور روایت پیش کرتے ہیں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں سے چپکا لے، اس طرح کہ اس کے لیے زیادہ سے زیادہ پردے کا موجب ہو۔“ [بيهقي فى السنن الكبريٰ 222/2، 223]
اس روایت کے متعلق خود امام بیہقی رحمہ اللہ نے صراحت کر دی ہے کہ اس جیسی ضعیف روایت سے استدلال کرنا صحیح نہیں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک اثر یہ بھی پیش کیا جاتا ہے:
«اِنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ نِسَاءَهُ يَتَرَبَّعْنَ فِي الصَّلَاةِ» [مسائل أحمد لابنه عبدالله ص/71]
”وہ اپنی عورتوں کو حکم دیتے کہ وہ نماز میں چار زانوں بیٹھیں“۔
لیکن اس کی سند میں عبداللہ بن عمر العمری راوی ضعیف ہے۔ [تقريب التهذيب 182]
پس معلوم ہوا کہ احناف کے ہاں عورتوں کے سجدہ کر نے کا مروج طریقہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں مگر اس طریقے کے خلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد ارشاد مروی ہیں، چند ایک یہاں نقل کئے جاتے ہیں:
➊ «لَايَنْبَسِطْ اَحَدُكُمْ ذِرَعَيْهِ اِنْبِسَاطَ الْكَلْبِ» [بخاري، كتاب الأذان: باب لايفترش زراعيه فى السجود 822]
”تم میں سے کوئی بھی حالتِ سجدہ میں اپنے دونوں بازو کتے کی طرح نہ بچھائے۔“
➋ «اِعْتَدِلُوْا فِي السُّجُودِ، وَلَا يَفْتَرِشُ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ» [أبوداؤد، كتاب الصلاة: باب صفة السجود 897]
”سجدہ اطمینان سے کرو اور تم میں سے کوئی بھی حالت سجدہ میں اپنے بازو کتے کی طرح نہ بچھائے۔“
غرض نماز کے اندر ایسے کاموں سے روکا گیا ہے جو جانوروں کی طرح کے ہوں۔
امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں حیوانات سے مشابہت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ اس طرح بیٹھنا جس طرح اونٹ بیٹھتا ہے یا لومڑی کی طرح اِدھر اُدھر دیکھنا یا جنگلی جانوروں کی طرح افتراش یا کتے کی طرح اقعاء یا کوے کی طرح ٹھونگے مارنا یا سلام کے وقت شریر گھوڑوں کی دم کی طرح ہاتھ اٹھانا یہ سب افعال منع ہیں۔“ [زاد المعاد1/ 116]
پس ثابت ہوا کہ سجدہ کا اصل مسنون طریقہ وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا تھا اور کتب احادیث میں یوں مروی ہے:
«إِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلَا قَابِضِهِمَا» [بخاري، كتاب الأذان: باب سنة الجلوس فى التشهد 828]
“ جب آپ سجدہ کرتے تو اہنے ہاتھوں کو زمین پر نہ بچھاتے اور نہ اپنے پہلوؤں سے ہی ملاتے تھے۔“
قرآن مجید میں جس مقام پر نماز کا حکم وارد ہوا ہے اس میں سے کسی ایک مقام پر بھی اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں کے طریقہ نماز میں فرق بیان نہیں کیا۔ دوسری بات یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کسی صحیح حدیث سے ہیت نماز کا فرق مروی نہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد رسالت سے جملہ امہات المؤمنین، صحابیات اور احادیث نبویہ پر عمل کرنے والی خواتین کا طریقہ نماز وہی رہا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہوتا تھا۔ چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے بسند صحیح ام درداء رضی اللہ عنہا کے متعلق نقل کیا ہے:
«انهاكانت تجلس فى صلاتها جلسة الرجل و كانت فقيهة» [التاريخ الصغير للبخاري 90]
”وہ نماز میں مردوں کی طرح بیٹھتی تھیں اور وہ فقیہ تھیں۔“
چوتھی بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم عام ہے:
“ اس طرح نماز پڑھو، جیسے مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو۔“ [بخاري: 6008]
اس حکم کے عموم میں عورتیں بھی شامل ہیں۔
پانچویں یہ کہ سلف صالحین یعنی خلفائے راشدین، صحاب کرام، تابعین، تبع تابعین، محدثین اور صلحائے امت میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو دلیل کے ساتھ یہ دعوٰی کرتا ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں اور عورتوں کی نماز میں فرق کیا ہے
بلکہ امام ابوحنیفہ کے استاد امام ابراہیم نخعی سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے:
«تَفْعَلُ الْمَرْأَةُ فِي الصَّلَاةِ كَمَا يَفْعَلُ الرَّجُلُ» [ابن أبى شيبة 2/75/1]
”نماز میں عورت بھی بالکل ویسے ہی کرے جیسے مرد کرتا ہے۔“
جن علماء نے عورتوں کا نماز میں تکبیر کے لیے کندھوں تک ہاتھ اٹھانا، قیام میں سینے پر ہاتھ باندھنا اور سجدے میں زمین کے ساتھ چپک جانا موجب ستر بیان کیا ہے وہ دراصل قیاس فاسد کی بنا پر ہے، کیونکہ جب اس کے متعلق قرآن و سنت خاموش ہیں تو کسی عالم کو یہ حق کہاں پہنچتا ہے کہ وہ اپنی من مانی کر کے ازخود دین میں اضافہ کرے؟
[احکام و مسائل، حدیث/صفحہ نمبر: 196]
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، صحیح بخاری Q827
عورت اور مرد کی نماز میں کوئی فرق نہیں
نماز کی کیفیت و ادائیگی میں مرد و عورت کی نماز میں کوئی فرق کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام حکم دیا ہے کہ ”جس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھو اس طرح تم نماز پڑھو۔“
اور احناف وغیرہ جو مردوں اور عورتوں کی نماز میں فرق بیان کرتے ہیں، وہ ضعیف روایات و آثار پر مبنی ہے لٰہذا قابل اعتبار نہیں۔
(بخاریؒ) انہوں نے حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا سے صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ «إنها كانت تجلس فى صلاتها جلسة الرجل و كانت فقيهة» ”کے وہ نماز میں مردوں کی طرح بیٹھتی تھیں اور وہ فقیہ خاتون تھیں۔“ [التاريخ الصغير للبخاري: 90]
(ابراہیم نخعیؒ) عورت نماز میں مرد کی طرح ہی بیٹھے گی۔ [ابن أبى شيبة: 270/1، بسند صحيح]
(ابن حزمؒ) مرد اور عورت کی نماز میں کوئی فرق نہیں۔ [المحلى: 37/3]
(ابن حجرؒ) تکبیر کے لیے ہاتھ اٹھانے میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ [فتح الباري: 222/2]
(شمس الحق عظیم آبادیؒ) اس کے قائل ہیں۔ [عون المعبود: 263/1]
(ابن قدامہؒ) فی الحقیقت عورت کے حق میں بھی نماز کے وہی احکام ثابت ہیں جو مردوں کے لیے ہیں۔ الا کہ اس کے لیے
رکوع و سجدہ میں اپنے آپ کو سمیٹنا مستحب ہے۔ [المغنى: 258/2]
(نوویؒ) عورت بھی مرد کی طرح سینے پر ہاتھ رکھے گی۔ [شرح مسلم: 195/1]
(البانیؒ) مردوں اور عورتوں کی نماز کی (تمام کیفیات میں) کوئی فرق نہیں۔ [صفة صلاة النبى: ص/ 189]
البتہ اتنا فرق بہر حال ضرور ہے کہ عورت کے لیے نماز میں سر پر اوڑھنی لینا ضروری ہے اس کے بغیر اس کی نماز نہیں ہو گی جبکہ
مرد کے لیے یہ ضروری نہیں ہے لیکن یہ یاد رہے کہ یہ نماز کی کیفیت و طریقے میں فرق نہیں ہے بلکہ نماز کی شرائط میں کچھ فرق ہے۔
نماز کی کیفیت و ادائیگی میں مرد و عورت کی نماز میں کوئی فرق کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام حکم دیا ہے کہ ”جس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھو اس طرح تم نماز پڑھو۔“
اور احناف وغیرہ جو مردوں اور عورتوں کی نماز میں فرق بیان کرتے ہیں، وہ ضعیف روایات و آثار پر مبنی ہے لٰہذا قابل اعتبار نہیں۔
(بخاریؒ) انہوں نے حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا سے صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ «إنها كانت تجلس فى صلاتها جلسة الرجل و كانت فقيهة» ”کے وہ نماز میں مردوں کی طرح بیٹھتی تھیں اور وہ فقیہ خاتون تھیں۔“ [التاريخ الصغير للبخاري: 90]
(ابراہیم نخعیؒ) عورت نماز میں مرد کی طرح ہی بیٹھے گی۔ [ابن أبى شيبة: 270/1، بسند صحيح]
(ابن حزمؒ) مرد اور عورت کی نماز میں کوئی فرق نہیں۔ [المحلى: 37/3]
(ابن حجرؒ) تکبیر کے لیے ہاتھ اٹھانے میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ [فتح الباري: 222/2]
(شمس الحق عظیم آبادیؒ) اس کے قائل ہیں۔ [عون المعبود: 263/1]
(ابن قدامہؒ) فی الحقیقت عورت کے حق میں بھی نماز کے وہی احکام ثابت ہیں جو مردوں کے لیے ہیں۔ الا کہ اس کے لیے
رکوع و سجدہ میں اپنے آپ کو سمیٹنا مستحب ہے۔ [المغنى: 258/2]
(نوویؒ) عورت بھی مرد کی طرح سینے پر ہاتھ رکھے گی۔ [شرح مسلم: 195/1]
(البانیؒ) مردوں اور عورتوں کی نماز کی (تمام کیفیات میں) کوئی فرق نہیں۔ [صفة صلاة النبى: ص/ 189]
حضرت یزید بن ابی حبیب رضی اللہ عنہ سے جو حدیث مروی ہے کہ ”عورت سمٹ کر سجدہ کرے اور وہ اس مسئلے میں مرد کی طرح نہیں ہے۔“ امام ابو داودؒ نے اسے مراسیل میں روایت کیا ہے اور شیخ البانیؒ بیان کرتے ہیں کہ وہ مرسل ہے جو کہ دلیل نہیں بن سکتی۔ [مراسيل لأبي داود: ص/ 118، الضعيفة: 2654]
اسی طرح جس روایت میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”وہ اپنی عورتوں کو نماز میں چار زانو بیٹھنے کا حکم دیتے تھے۔“ اس کی سند بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ اس میں عبد اللہ بن عمر العمری راوی ضعیف ہے۔ [صفة صلاة النبى للألباني: ص/189] البتہ اتنا فرق بہر حال ضرور ہے کہ عورت کے لیے نماز میں سر پر اوڑھنی لینا ضروری ہے اس کے بغیر اس کی نماز نہیں ہو گی جبکہ
مرد کے لیے یہ ضروری نہیں ہے لیکن یہ یاد رہے کہ یہ نماز کی کیفیت و طریقے میں فرق نہیں ہے بلکہ نماز کی شرائط میں کچھ فرق ہے۔
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 428]
حدیث نمبر: 827
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ كَانَ يَرَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَتَرَبَّعُ فِي الصَّلَاةِ إِذَا جَلَسَ فَفَعَلْتُهُ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ فَنَهَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَقَالَ:" إِنَّمَا سُنَّةُ الصَّلَاةِ أَنْ تَنْصِبَ رِجْلَكَ الْيُمْنَى وَتَثْنِيَ الْيُسْرَى، فَقُلْتُ: إِنَّكَ تَفْعَلُ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّ رِجْلَيَّ لَا تَحْمِلَانِي".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے امام مالک رحمہ اللہ سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن قاسم کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عبداللہ سے انہوں نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو وہ ہمیشہ دیکھتے کہ آپ نماز میں چارزانو بیٹھتے ہیں میں ابھی نوعمر تھا میں نے بھی اسی طرح کرنا شروع کر دیا لیکن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے روکا اور فرمایا کہ نماز میں سنت یہ ہے کہ (تشہد میں) دایاں پاؤں کھڑا رکھے اور بایاں پھیلادے میں نے کہا کہ آپ تو اسی (میری) طرح کرتے ہیں آپ بولے کہ (کمزوری کی وجہ سے) میرے پاؤں میرا بوجھ نہیں اٹھا پاتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 827]
حضرت عبداللہ بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا وہ نماز میں چار زانو بیٹھتے تھے۔ میں چونکہ نو عمر تھا، اس لیے میں نے بھی ایسا کیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے منع کر دیا اور فرمایا کہ نماز میں بیٹھنے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ تم اپنا دایاں پاؤں کھڑا کرو اور بایاں پاؤں پھیلا دو۔ میں نے کہا: آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میری ٹانگیں میرا بوجھ نہیں اٹھا سکتیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 827]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 827 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 827
حدیث حاشیہ:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آخرمیں کمزوری کی وجہ سے تشہد میں چار زانو بیٹھتے تھے یہ محض عذر کی وجہ سے تھا ورنہ مسنون طریقہ یہی ہے کہ دایاں پاؤں کھڑا رہے اور بائیں کو پھیلا کر اس پر بیٹھا جائے اسے تورک کہتے ہیں عورتوں کے لیے بھی یہی مسنون ہے باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آخرمیں کمزوری کی وجہ سے تشہد میں چار زانو بیٹھتے تھے یہ محض عذر کی وجہ سے تھا ورنہ مسنون طریقہ یہی ہے کہ دایاں پاؤں کھڑا رہے اور بائیں کو پھیلا کر اس پر بیٹھا جائے اسے تورک کہتے ہیں عورتوں کے لیے بھی یہی مسنون ہے باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 827]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:827
حدیث حاشیہ:
(1)
اس روایت میں یہ وضاحت نہیں ہے کہ بایاں پاؤں پھیلانے کے بعد اس پر بیٹھتے تھے یا تورک کرتے تھے لیکن امام مالک کی بیان کردہ روایت میں وضاحت ہے کہ بایاں پاؤں پھیلانے کے بعد اس پر بیٹھتے نہیں تھے بلکہ اپنے کولہے پر بیٹھتے تھے۔
اس مفصل روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت میں بیان کردہ طریقہ دوسرے تشہد سے متعلق ہے جیسا کہ مؤطا ہی کی روایت میں صراحت ہے کہ آپ آخری تشہد میں ایسا کرتے تھے۔
اگر صحیح بخاری میں پیش کردہ روایت کو پہلے تشہد پر محمول کر لیا جائے تو بھی کوئی اشکال نہیں ہے جیسا کہ امام نسائی ؒ نے حضرت ابن عمر ؓ سے بیان کیا ہے کہ نماز میں بیٹھنے کا مسنون طریقہ دائیں پاؤں پر بیٹھنا ہے۔
(سنن النسائي، التطبیق، حدیث: 1158) (2)
واضح رہے کہ نماز میں چارزانو بیٹھنا درست نہیں ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نماز میں چار زانو بیٹھنے سے کوئلوں پر بیٹھنا زیادہ پسند ہے، البتہ عذر کی وجہ سے نفل یا فرض نماز میں چار زانو بیٹھا جا سکتا ہے۔
(فتح الباري: 396/2)
واللہ أعلم۔
(1)
اس روایت میں یہ وضاحت نہیں ہے کہ بایاں پاؤں پھیلانے کے بعد اس پر بیٹھتے تھے یا تورک کرتے تھے لیکن امام مالک کی بیان کردہ روایت میں وضاحت ہے کہ بایاں پاؤں پھیلانے کے بعد اس پر بیٹھتے نہیں تھے بلکہ اپنے کولہے پر بیٹھتے تھے۔
اس مفصل روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت میں بیان کردہ طریقہ دوسرے تشہد سے متعلق ہے جیسا کہ مؤطا ہی کی روایت میں صراحت ہے کہ آپ آخری تشہد میں ایسا کرتے تھے۔
اگر صحیح بخاری میں پیش کردہ روایت کو پہلے تشہد پر محمول کر لیا جائے تو بھی کوئی اشکال نہیں ہے جیسا کہ امام نسائی ؒ نے حضرت ابن عمر ؓ سے بیان کیا ہے کہ نماز میں بیٹھنے کا مسنون طریقہ دائیں پاؤں پر بیٹھنا ہے۔
(سنن النسائي، التطبیق، حدیث: 1158) (2)
واضح رہے کہ نماز میں چارزانو بیٹھنا درست نہیں ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نماز میں چار زانو بیٹھنے سے کوئلوں پر بیٹھنا زیادہ پسند ہے، البتہ عذر کی وجہ سے نفل یا فرض نماز میں چار زانو بیٹھا جا سکتا ہے۔
(فتح الباري: 396/2)
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 827]
Sahih Bukhari Hadith 827 in Urdu
عبد الله بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي