🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب من قال فى الخطبة بعد الثناء أما بعد:
باب: خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا کے بعد امابعد کہنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q922
رَوَاهُ عِكْرِمَةُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
‏‏‏‏ اس کو عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: Q922]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 922
وَقَالَ مَحْمُودٌ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ، قُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَقُلْتُ: آيَةٌ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَيْ نَعَمْ، قَالَتْ: فَأَطَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِدًّا حَتَّى تَجَلَّانِي الْغَشْيُ وَإِلَى جَنْبِي قِرْبَةٌ فِيهَا مَاءٌ فَفَتَحْتُهَا فَجَعَلْتُ أَصُبُّ مِنْهَا عَلَى رَأْسِي فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ وَحَمِدَ اللَّهَ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، قَالَتْ: وَلَغَطَ نِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَانْكَفَأْتُ إِلَيْهِنَّ لِأُسَكِّتَهُنَّ فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا قَالَ، قَالَتْ: قَالَ: مَا مِنْ شَيْءٍ لَمْ أَكُنْ أُرِيتُهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، وَإِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ مِثْلَ أَوْ قَرِيبَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، يُؤْتَى أَحَدُكُمْ فَيُقَالُ لَهُ مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوْ قَالَ الْمُوقِنُ شَكَّ هِشَامٌ، فَيَقُولُ هُوَ رَسُولُ اللَّهِ هُوَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى، فَآمَنَّا وَأَجَبْنَا وَاتَّبَعْنَا وَصَدَّقْنَا، فَيُقَالُ لَهُ: نَمْ صَالِحًا قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ إِنْ كُنْتَ لَتُؤْمِنُ بِهِ، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوْ قَالَ الْمُرْتَابُ شَكَّ هِشَامٌ فَيُقَالُ لَهُ: مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ، فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا، فَقُلْتُ: قَالَ هِشَامٌ: فَلَقَدْ قَالَتْ لِي فَاطِمَةُ فَأَوْعَيْتُهُ غَيْرَ أَنَّهَا ذَكَرَتْ مَا يُغَلِّظُ عَلَيْهِ.
اور محمود بن غیلان (امام بخاری رحمہ اللہ کے استاذ) نے کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہ مجھے فاطمہ بنت منذر نے خبر دی، ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے کہا کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی۔ لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے (اس بے وقت نماز پر تعجب سے پوچھا کہ) یہ کیا ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے پوچھا کیا کوئی نشانی ہے؟ انہوں نے سر کے اشارہ سے ہاں کہا (کیونکہ سورج گہن ہو گیا تھا) اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک نماز پڑھتے رہے۔ یہاں تک کہ مجھ کو غشی آنے لگی۔ قریب ہی ایک مشک میں پانی بھرا رکھا تھا۔ میں اسے کھول کر اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی۔ پھر جب سورج صاف ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کر دی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا۔ پہلے اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مناسب تعریف بیان کی۔ اس کے بعد فرمایا «امابعد» ! اتنا فرمانا تھا کہ کچھ انصاری عورتیں شور کرنے لگیں۔ اس لیے میں ان کی طرف بڑھی کہ انہیں چپ کراؤں (تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات اچھی طرح سن سکوں مگر میں آپ کا کلام نہ سن سکی) تو پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے بتایا کہ آپ نے فرمایا کہ بہت سی چیزیں جو میں نے اس سے پہلے نہیں دیکھی تھیں، آج اپنی اس جگہ سے میں نے انہیں دیکھ لیا۔ یہاں تک کہ جنت اور دوزخ تک میں نے آج دیکھی۔ مجھے وحی کے ذریعہ یہ بھی بتایا گیا کہ قبروں میں تمہاری ایسی آزمائش ہو گی جیسے کانے دجال کے سامنے یا اس کے قریب قریب۔ تم میں سے ہر ایک کے پاس فرشتہ آئے گا اور پوچھے گا کہ تو اس شخص کے بارے میں کیا اعتقاد رکھتا تھا؟ مومن یا یہ کہا کہ یقین والا (ہشام کو شک تھا) کہے گا کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ہمارے پاس ہدایت اور واضح دلائل لے کر آئے، اس لیے ہم ان پر ایمان لائے، ان کی دعوت قبول کی، ان کی اتباع کی اور ان کی تصدیق کی۔ اب اس سے کہا جائے گا کہ تو تو صالح ہے، آرام سے سو جا۔ ہم پہلے ہی جانتے تھے کہ تیرا ان پر ایمان ہے۔ ہشام نے شک کے اظہار کے ساتھ کہا کہ رہا منافق یا شک کرنے والا تو جب اس سے پوچھا جائے گا کہ تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا ہے تو وہ جواب دے گا کہ مجھے نہیں معلوم میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے سنا اسی کے مطابق میں نے بھی کہا۔ ہشام نے بیان کیا کہ فاطمہ بنت منذر نے جو کچھ کہا تھا۔ میں نے وہ سب یاد رکھا۔ لیکن انہوں نے قبر میں منافقوں پر سخت عذاب کے بارے میں جو کچھ کہا وہ مجھے یاد نہیں رہا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 922]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی جبکہ لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے دریافت کیا کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے سر کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ فرمایا۔ میں نے عرض کیا: کوئی نشانی ہے؟ تو انہوں نے اپنے سر سے اشارہ کیا کہ ہاں۔ وہ (حضرت اسماء رضی اللہ عنہما) کہتی ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی طوالت کی کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی۔ میرے پہلو میں پانی کا ایک مشکیزہ تھا، میں نے اسے کھولا اور اس سے پانی لے کر اپنے سر پر ڈالنے لگی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو سورج روشن ہو چکا تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا۔ اس میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کی جس کا وہ مستحق ہے، پھر «أَمَّا بَعْدُ» حمد و ثنا کے بعد کہا۔ وہ (حضرت اسماء رضی اللہ عنہما) کہتی ہیں کہ انصار کی کچھ عورتوں نے شور کرنا شروع کیا تو میں انہیں خاموش کرانے کے لیے ان کی طرف متوجہ ہوئی۔ اس اثنا میں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو مجھے نہ دکھائی گئی ہو۔ میں نے اسے آج اپنی اسی جگہ سے دیکھ لیا ہے حتی کہ میں نے جنت اور دوزخ کو بھی دیکھ لیا۔ اور میری طرف یہ وحی کی گئی کہ تمہارا مسیح دجال کے فتنے کی طرح یا اس کے قریب قریب قبروں میں امتحان لیا جائے گا، چنانچہ تم میں سے (ہر) ایک کے پاس فرشتہ آئے گا اور اس (ہر ایک) سے پوچھا جائے گا کہ اس شخصیت کے متعلق تم کیا جانتے ہو؟ جو شخص ایمان یا یقین والا ہوگا تو وہ کہے گا کہ یہ اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو ہمارے پاس ہدایت کی باتیں اور کھلی دلیلیں لے کر آئے۔ ہم ان پر ایمان لائے، ان کی دعوت کو قبول کیا، نیز ان کی پیروی اور تصدیق کی۔ پھر اس شخص سے کہا جائے گا کہ تو اطمینان و سکون سے سو جا۔ ہم جانتے تھے کہ تو یقین و ایمان والا تھا۔ اور جو شخص منافقت یا شک رکھنے والا ہوگا۔ ہشام کو شک ہے۔ اس سے کہا جائے گا کہ تو اس شخص کے متعلق کیا معلومات رکھتا ہے؟ تو وہ کہے گا کہ میں تو کچھ نہیں جانتا۔ لوگوں سے ایک بات سنتا تھا تو میں بھی ویسے ہی کہہ دیتا تھا۔ ہشام رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے فاطمہ بنت منذر رحمہا اللہ نے جو کہا میں نے اسے خوب یاد کر لیا، البتہ منافقین پر کی جانے والی سختیاں جو انہوں نے بیان کی تھیں وہ یاد نہ رہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 922]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


صحیح بخاری کی حدیث نمبر 922 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 922
حدیث حاشیہ:
یہ حدیث یہاں اس لیے لائی گئی ہے کہ اس میں یہ ذکر ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں اما بعد کا لفظ استعمال فرمایا۔
حضرت امام بخاری ؒ بتانا چاہتے ہیں کہ خطبہ میں أما بعد کہنا سنت ہے۔
کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے حضرت داؤد ؑ نے یہ کہا تھا۔
آپ کا ''فصل خطاب'' بھی یہی ہے پہلے خداوند قدوس کی حمد وتعریف پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوة و سلام بھیجا گیا اور أما بعد نے اس تمہید کو اصل خطاب سے جدا کر دیا۔
اما بعد کا مطلب یہ ہے کہ حمد وصلوة کے بعد اب اصل خطبہ شروع ہوگا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 922]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:922
حدیث حاشیہ:
امام بخاری ؒ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ خطبے میں أما بعد کہنا سنت ہے۔
حضرت داود ؑ کے متعلق قرآن میں ہے کہ انہیں فصل خطاب سے نوازا گیا تھا۔
(ص20: 38)
اس کا بھی تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کو اپنے اصل خطاب سے أما بعد کے ذریعے سے الگ کیا جائے۔
امام بخاری ؒ نے اسی مقصد کے لیے متعدد احادیث پیش کی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انداز کو عادتاً اختیار فرمایا ہے۔
چونکہ امام بخاری ؒ کو ان کی شرط کے مطابق کوئی خاص حدیث خطبۂ جمعہ سے متعلق نہ مل سکی، اس لیے انہوں نے دوسری احادیث نقل کر دیں جن سے مقصد مذکورہ حاصل ہو اور یہ انداز جمعہ کے لیے قابل عمل ہے۔
اس حدیث کی مکمل تشریح کتاب الکسوف میں ذکر ہو گی۔
بإذن اللہ
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 922]

Sahih Bukhari Hadith 922 in Urdu