بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب الأذان
اذان کا بیان
حدیث نمبر: 157
وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «المؤذن أملك بالأذان والإمام أملك بالإقامة» . رواه ابن عدي وضعفه.وللبيهقي نحوه عن علي رضي الله عنه من قوله.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مؤذن اذان کا زیادہ حقدار ہے اور امام تکبیر کہنے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔“
اسے ابن عدی نے روایت کیا ہے اور ضعیف قرار دیا ہے اور بیہقی میں بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح منقول ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 157]
اسے ابن عدی نے روایت کیا ہے اور ضعیف قرار دیا ہے اور بیہقی میں بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح منقول ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 157]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «الْمُؤَذِّنُ» مؤذن – «أَمْلَكُ» زیادہ اختیار رکھتا ہے – «بِالْأَذَانِ» اذان کا – «وَالْإِمَامُ» اور امام – «أَمْلَكُ» زیادہ اختیار رکھتا ہے – «بِالْإِقَامَةِ» اقامت کا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ عَدِيٍّ» ابن عدی نے – «وَضَعَّفَهُ» اور اسے ضعیف کہا۔ – «وَلِلْبَيْهَقِيِّ» اور بیہقی کی روایت ہے – «نَحْوُهُ» اسی جیسی – «عَنْ عَلِيٍّ» علی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «مِنْ قَوْلِهِ» ان کے اپنے قول سے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مؤذن اذان کا زیادہ اختیار رکھتا ہے اور امام اقامت کا زیادہ اختیار رکھتا ہے۔“ اسے ابن عدی نے روایت کیا ہے اور اسے ضعیف کہا ہے۔ اور بیہقی میں اسی طرح کی روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ان کے اپنے قول کے طور پر ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 157]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مؤذن اذان کا زیادہ اختیار رکھتا ہے اور امام اقامت کا زیادہ اختیار رکھتا ہے۔“ اسے ابن عدی نے روایت کیا ہے اور اسے ضعیف کہا ہے۔ اور بیہقی میں اسی طرح کی روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ان کے اپنے قول کے طور پر ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 157]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن عدي في الكامل: 4 /1327*شريك القاضي والأعمش عنعنا، وفيه علة أخري، وقول علي أخرجه البيهقي:2 /19 وسنده صحيح.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 157 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 157
لغوی تشریح:
«رَوَاهُ ابْنُ عَدِيٍّ وَضَعَّفَهُ» ابن عدی نے اسے ضعیف اس بنا پر قرار دیا ہے کہ شریک قاضی تنہا اسے روایت کرتا ہے۔ لیکن ابن معین نے کہا ہے کہ شریک صدوق، ثقہ ہے۔ البتہ اگر وہ دوسروں کی مخالفت کرے تو پھر ہمیں دوسرا راوی اس سے زیادہ محبوب ہے۔ اور امام نسائی رحمہ اللہ نے کہا: «لَيْسَ بِهِ بَأْسَ» ”اس میں کوئی حرج نہیں۔“ اور امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: کہ وہ عاقل اور صدوق ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے اس سے متابعتاً روایت لی ہے۔
فوائد و مسائل:
➊ ہمارے فاضل محقق نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قول کی بابت لکھتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے، لہٰذا مذکورہ روایت میں بیان کردہ مسئلہ درست ہے۔
➋ مؤذن اذان کا زیادہ استحقاق رکھتا ہے کیونکہ اسے اذان کے وقت کا محافظ بنایا گیا ہے، لہٰذا مؤذن کو اپنی یہ ذمہ داری صحیح طریقے سے ادا کرنی چاہیے۔ اور امام، تکبیر کہلانے میں زیادہ حقدار ہے، یعنی اس کے اشارے واجازت کے بغیر تکبیر نہ کہی جائے۔
«رَوَاهُ ابْنُ عَدِيٍّ وَضَعَّفَهُ» ابن عدی نے اسے ضعیف اس بنا پر قرار دیا ہے کہ شریک قاضی تنہا اسے روایت کرتا ہے۔ لیکن ابن معین نے کہا ہے کہ شریک صدوق، ثقہ ہے۔ البتہ اگر وہ دوسروں کی مخالفت کرے تو پھر ہمیں دوسرا راوی اس سے زیادہ محبوب ہے۔ اور امام نسائی رحمہ اللہ نے کہا: «لَيْسَ بِهِ بَأْسَ» ”اس میں کوئی حرج نہیں۔“ اور امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: کہ وہ عاقل اور صدوق ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے اس سے متابعتاً روایت لی ہے۔
فوائد و مسائل:
➊ ہمارے فاضل محقق نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قول کی بابت لکھتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے، لہٰذا مذکورہ روایت میں بیان کردہ مسئلہ درست ہے۔
➋ مؤذن اذان کا زیادہ استحقاق رکھتا ہے کیونکہ اسے اذان کے وقت کا محافظ بنایا گیا ہے، لہٰذا مؤذن کو اپنی یہ ذمہ داری صحیح طریقے سے ادا کرنی چاہیے۔ اور امام، تکبیر کہلانے میں زیادہ حقدار ہے، یعنی اس کے اشارے واجازت کے بغیر تکبیر نہ کہی جائے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 157]
Bulughul Maram Hadith 157 in Urdu