🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب شــروط الصلاة
شرائط نماز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 170
وعن أبي سعيد رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا جاء أحدكم المسجد فلينظر فإن رأى في نعليه أذى أو قذرا فليمسحه وليصل فيهما» .‏‏‏‏ أخرجه أبو داود. وصححه ابن خزيمة.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”تم میں سے جب کوئی مسجد میں آئے تو (مسجد میں داخل ہونے سے پہلے) اسے چائیے کہ (اپنی جوتی) دیکھ لے۔ اگر اپنی جوتی میں گندگی یا ناپاک چیز لگی ہوئی دیکھے تو اسے چائیے کہ اسے صاف کرے اور اس میں نماز پڑھ لے۔ “
ابوداؤد نے اس کی روایت کی ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 170]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ» ابو سعید – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا جَاءَ» جب آئے – «أَحَدُكُمُ» تم میں سے کوئی – «الْمَسْجِدَ» مسجد میں – «فَلْيَنْظُرْ» تو اسے چاہیے کہ دیکھ لے – «فَإِنْ رَأَى» پس اگر وہ دیکھے – «فِي نَعْلَيْهِ» اپنے دونوں جوتوں میں – «أَذًى» کوئی تکلیف دہ چیز – «أَوْ قَذَرًا» یا گندگی – «فَلْيَمْسَحْهُ» تو اسے پونچھ (رگڑ) دے – «وَلْيُصَلِّ» اور نماز پڑھے – «فِيهِمَا» ان دونوں میں۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے۔
اور سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو (اپنے جوتے) دیکھ لے، اگر اپنے جوتوں میں کوئی تکلیف دہ چیز یا گندگی دیکھے تو اسے (زمین پر) رگڑ کر صاف کر لے اور ان میں نماز پڑھ لے۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 170]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب الصلاة في النعل، حديث:650، وابن خزيمة، حديث:1017، وابن حبان(الموارد)، حديث:360، والحاكم:1 /260 وصححه علي شرط مسلم، ووافقه الذهبي.»

الحكم على الحديث:
صحيح


بلوغ المرام کی حدیث نمبر 170 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 170
� لغوی تشریح:
«أَذًي» طبیعت جس سے اذیت محسوس کرے۔
«قَذَرًا» طبائع جسے گندہ تصور کریں اور اس سے نفرت کریں۔ مراد اس سے نجاست و گندگی ہے۔
«أَذًي أَوْ قَذَرًا» راوی نے اپنے شک کا اظہار کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے «أَذًي» کا لفظ استعمال کیا تھا یا «قَذَرًا» کا۔ معنی دونوں کے ایک ہی ہیں، یعنی نجاست۔

فوائد و مسائل:
➊ یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ جوتے پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے بشرطیکہ جوتے پاک صاف ہوں۔
➋ جوتے پر لگی ہوئی نجاست کو رگڑ کر صاف کرنے سے جوتا پاک اور صاف ہو جاتا ہے۔
➌ حدیث کے بظاہر الفاظ سے یہی مترشح ہوتا ہے کہ نجاست خشک ہو یا تر دونوں کا حکم یکساں ہے۔
➍ اس ارشاد نبوی کا سبب یہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے جوتا پہنے ہوئے نماز ادا فرمائی۔ آپ کو اس کا علم نہیں تھا کہ جوتا ناپاک ہے اور اس کے نیچے گندگی اور نجاست لگی ہوئی ہے۔ دوران نماز ہی میں جبریل امین علیہ السلام نے آپ کو مطلع فرمایا کہ آپ کے جوتے نجاست سے آلودہ ہیں۔ آپ نے نماز ہی میں جوتے اتار دیے اور نماز جاری رکھی۔ مقتدیوں نے بھی فعل نبوی کی اتباع میں اپنے جوتے اتار دئیے اور نماز پڑھتے رہے۔ نماز سے فارغ ہو کر آپ نے صحابہ سے جوتے اتارنے کی وجہ دریافت فرمائی۔ انہوں نے جواب میں عرض کیا کہ ہم نے آپ کی اتباع میں جوتے اتارے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا جوتا اتارنے کی وجہ بتائی۔ [مسند أحمد 203، و سنن أبى داود، الصلاة، باب الصلاة فى النعل، حديث: 650]
➎ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ نمازی کو اگر نماز کے آغاز کے وقت اس کا علم نہ ہو سکا ہو کہ اس کے کپڑے یا جوتے وغیرہ پر نجاست لگی ہوئی ہے اور دوران نماز میں کسی طرح علم ہو جائے تو وہ اس ناپاک چیز کو اسی حالت میں اتار کر نماز کو پورا کر لے تو نماز بالکل صحیح ہو گی۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 170]

Bulughul Maram Hadith 170 in Urdu