بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب صلاة الاستسقاء
نماز استسقاء کا بیان
حدیث نمبر: 410
وعنه رضي الله عنه قال: أصابنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم مطر قال فحسر ثوبه حتى أصابه من المطر وقال: «إنه حديث عهد بربه» . رواه مسلم.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے یہ حدیث بھی مروی ہے کہ ہم ایک دفعہ بارش کی لپیٹ میں آ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بدن اطہر سے کپڑا اوپر اٹھایا کہ بارش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطیب پر پڑنے لگی اور ارشاد فرمایا کہ ”یہ اپنے آقا و مالک کے ہاں سے نئی نئی (تحفہ کی صورت میں) آ رہی ہے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 410]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «أَصَابَنَا» ہمیں پہنچی – «وَنَحْنُ» جبکہ ہم – «مَعَ رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے ساتھ تھے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَطَرٌ» بارش – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «فَحَسَرَ» تو آپ نے ہٹا دیا – «ثَوْبَهُ» اپنا کپڑا – «حَتَّى أَصَابَهُ» یہاں تک کہ آپ کو لگی – «مِنَ الْمَطَرِ» بارش – «وَقَالَ» اور فرمایا: – «إِنَّهُ» بے شک یہ – «حَدِيثُ عَهْدٍ» تازہ تازہ آئی ہے – «بِرَبِّهِ» اپنے رب کے پاس سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور انہی (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم پر بارش ہونے لگی، تو آپ نے اپنا کپڑا (جسم سے) ہٹا دیا یہاں تک کہ بارش آپ کے جسم پر پڑی، اور فرمایا: ”یہ اپنے رب کے پاس سے تازہ تازہ آئی ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 410]
اور انہی (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم پر بارش ہونے لگی، تو آپ نے اپنا کپڑا (جسم سے) ہٹا دیا یہاں تک کہ بارش آپ کے جسم پر پڑی، اور فرمایا: ”یہ اپنے رب کے پاس سے تازہ تازہ آئی ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 410]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، صلاة الاستسقاء، باب الدعاء في الاستسقاء، حديث:898.»
الحكم على الحديث:
صحيح
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 410 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 410
تخریج:
«أخرجه مسلم، صلاة الاستسقاء، باب الدعاء في الاستسقاء، حديث:898.» تشریح:
1. حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ بارش اللہ کی رحمت ہے۔
ابھی یہ ایسی حالت میں ہے کہ کسی گناہ گار کا ہاتھ اسے نہیں لگا ہے اور نہ ابھی ایسے مقام تک پہنچی ہے جہاں لوگ گناہ میں ملوث ہوتے ہیں۔
2.اس حدیث میں خیر اور برکت والی اشیاء سے تبرک حاصل کرنے کی جانب رغبت دلائی گئی ہے۔
3.بارش کے پانی میں نہانا مفید اور جائز ہے۔
«أخرجه مسلم، صلاة الاستسقاء، باب الدعاء في الاستسقاء، حديث:898.»
1. حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ بارش اللہ کی رحمت ہے۔
ابھی یہ ایسی حالت میں ہے کہ کسی گناہ گار کا ہاتھ اسے نہیں لگا ہے اور نہ ابھی ایسے مقام تک پہنچی ہے جہاں لوگ گناہ میں ملوث ہوتے ہیں۔
2.اس حدیث میں خیر اور برکت والی اشیاء سے تبرک حاصل کرنے کی جانب رغبت دلائی گئی ہے۔
3.بارش کے پانی میں نہانا مفید اور جائز ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 410]
Bulughul Maram Hadith 410 in Urdu