بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب صلاة الاستسقاء
نماز استسقاء کا بیان
حدیث نمبر: 413
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «خرج سليمان عليه السلام يستسقي فرأى نملة مستلقية على ظهرها رافعة قوائمها إلى السماء تقول: اللهم إنا خلق من خلقك ليس بنا غنى عن سقياك فقال: ارجعوا سقيتم بدعوة غيركم» . رواه أحمد وصححه الحاكم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” سیدنا سلیمان علیہ السلام بارش طلب کرنے کے لئے باہر نکلے تو انہوں نے ایک چیونٹی کو پشت کے بل ٹانگیں آسمان کی جانب اٹھائے ہوئے دیکھا جو بارگاہ رب العزت میں عرض کر رہی تھی۔ الٰہی ہم تیری مخلوق ہیں تیری دوسری مخلوق کی طرح، ہم بھی تیری بارش سے بے نیاز و مستغنی نہیں ہیں، یہ سن کر سیدنا سلیمان علیہ السلام نے فرمایا چلو واپس چلیں تمہیں بارش سے سیراب کر دیا گیا، غیروں کی دعا کی بدولت۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 413]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «خَرَجَ» نکلے – «سُلَيْمَانُ» سلیمان – «عَلَيْهِ السَّلَامُ» ان پر سلامتی ہو – «يَسْتَسْقِي» بارش کی دعا کرنے – «فَرَأَى» تو دیکھا – «نَمْلَةً» ایک چیونٹی کو – «مُسْتَلْقِيَةً» لیٹی ہوئی – «عَلَى ظَهْرِهَا» اپنی پیٹھ کے بل – «رَافِعَةً» اٹھائے ہوئے – «قَوَائِمَهَا» اپنے پاؤں – «إِلَى السَّمَاءِ» آسمان کی طرف – «تَقُولُ» کہہ رہی تھی: – «اللَّهُمَّ» اے اللہ – «إِنَّا» بے شک ہم – «خَلْقٌ» ایک مخلوق ہیں – «مِنْ خَلْقِكَ» تیری مخلوق میں سے – «لَيْسَ بِنَا» ہمیں نہیں ہے – «غِنًى» بے نیازی – «عَنْ سُقْيَاكَ» تیری (دی ہوئی) بارش سے – «فَقَالَ» تو (سلیمان نے) کہا: – «ارْجِعُوا» لوٹ چلو – «سُقِيتُمْ» تمہیں بارش دے دی گئی – «بِدَعْوَةِ غَيْرِكُمْ» دوسرے کی دعا سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سلیمان علیہ السلام بارش کی دعا کرنے نکلے تو انہوں نے ایک چیونٹی دیکھی جو اپنی پیٹھ کے بل لیٹی ہوئی اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے کہہ رہی تھی: اے اللہ! ہم تیری مخلوق میں سے ایک مخلوق ہیں، ہم تیری (عطا کردہ) بارش سے بے نیاز نہیں ہیں۔ تو سلیمان علیہ السلام نے (لوگوں سے) کہا: واپس چلو، تمہیں دوسرے کی دعا کی وجہ سے بارش دے دی گئی ہے۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 413]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سلیمان علیہ السلام بارش کی دعا کرنے نکلے تو انہوں نے ایک چیونٹی دیکھی جو اپنی پیٹھ کے بل لیٹی ہوئی اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے کہہ رہی تھی: اے اللہ! ہم تیری مخلوق میں سے ایک مخلوق ہیں، ہم تیری (عطا کردہ) بارش سے بے نیاز نہیں ہیں۔ تو سلیمان علیہ السلام نے (لوگوں سے) کہا: واپس چلو، تمہیں دوسرے کی دعا کی وجہ سے بارش دے دی گئی ہے۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 413]
تخریج الحدیث: «أخرجه أحمد، ولم أجده، عزاه المؤلف في كتابه اتحاف المهرة:16 /1 ص70، حديث:20399 إلي الحاكم فقط، قال المؤلف: أخرجه الحاكم في المستدرك:1 /325 وصححه [ووافقه الذهبي] .»
الحكم على الحديث:
حسن
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 413 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 413
تخریج:
«أخرجه أحمد، ولم أجده، عزاه المؤلف في كتابه اتحاف المهرة:16 /1 ص70، حديث:20399 إلي الحاكم فقط، قال المؤلف: أخرجه الحاكم في المستدرك:1 /325 وصححه «ووافقه الذهبي» .» تشریح:
1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سابقہ پیغمبر بھی بارش کی بندش کے موقع پر شہر سے باہر نکل کر بارش طلب کرنے جاتے تھے۔
2. دعائے استسقا یا نماز استسقا آبادی سے باہر ہی ادا کرنی چاہیے‘ اس طرح آبادی کی گہما گہمی‘ ہنگامہ خیزی اور شور و شغف سے دور ہو کر اللہ کی طرف توجہ زیادہ ہو جاتی ہے۔
«أخرجه أحمد، ولم أجده، عزاه المؤلف في كتابه اتحاف المهرة:16 /1 ص70، حديث:20399 إلي الحاكم فقط، قال المؤلف: أخرجه الحاكم في المستدرك:1 /325 وصححه «ووافقه الذهبي» .»
1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سابقہ پیغمبر بھی بارش کی بندش کے موقع پر شہر سے باہر نکل کر بارش طلب کرنے جاتے تھے۔
2. دعائے استسقا یا نماز استسقا آبادی سے باہر ہی ادا کرنی چاہیے‘ اس طرح آبادی کی گہما گہمی‘ ہنگامہ خیزی اور شور و شغف سے دور ہو کر اللہ کی طرف توجہ زیادہ ہو جاتی ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 413]
Bulughul Maram Hadith 413 in Urdu