🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. (أحاديث في الجنائز)
(جنازے کے متعلق احادیث)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 468
وعن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه قال: الحدوا لي لحدا وانصبوا علي اللبن نصبا،‏‏‏‏ كما صنع برسول الله صلى الله عليه وآله وسلم. رواه مسلم. وللبيهقي عن جابر رضي الله عنه نحوه وزاد: ورفع قبره عن الأرض قدر شبر. وصححه ابن حبان. ولمسلم عنه رضي الله عنه: نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أن يجصص القبر،‏‏‏‏ وأن يقعد عليه،‏‏‏‏ وأن يبنى عليه.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہا کہ میرے لیے بغلی لحد والی قبر بنانا اور مجھ پر کچی اینٹیں چننا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا گیا۔ (مسلم) اور بیہقی نے جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اتنا اضافہ نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر زمین سے صرف ایک بالشت برابر اونچی بنائی گئی۔
ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ اور مسلم میں جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ”قبر کو پختہ کیا جائے اور اس پر بیٹھا جائے اور اس پر عمارت تعمیر کی جائے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 468]
«وَعَنْ» اور سے – «سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ» سعد بن ابی وقاص – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «الْحَدُوا» بناؤ – «لِي» میرے لیے – «لَحْدًا» بغلی قبر (لحد) – «وَانْصِبُوا» اور کھڑی کر کے لگاؤ – «عَلَيَّ» مجھ پر – «اللَّبِنَ» کچی اینٹیں – «نَصْبًا» کھڑی کر کے – «كَمَا صُنِعَ» جیسا کہ کیا گیا – «بِرَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے ساتھ – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔ – «وَلِلْبَيْهَقِيِّ» اور بیہقی کے لیے (روایت) ہے – «عَنْ جَابِرٍ» جابر سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «نَحْوُهُ» اسی طرح کی – «وَزَادَ» اور اضافہ کیا: – «وَرُفِعَ» اور بلند کی گئی – «قَبْرُهُ» آپ کی قبر – «عَنِ الْأَرْضِ» زمین سے – «قَدْرَ شِبْرٍ» ایک بالشت کی مقدار۔ – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔ – «وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم کے لیے (روایت) ہے – «عَنْهُ» ان (جابر) سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «نَهَى» منع فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَنْ يُجَصَّصَ» کہ پختہ (چونا گچ) کی جائے – «الْقَبْرُ» قبر – «وَأَنْ يُقْعَدَ» اور یہ کہ بیٹھا جائے – «عَلَيْهِ» اس پر – «وَأَنْ يُبْنَى» اور یہ کہ عمارت بنائی جائے – «عَلَيْهِ» اس پر۔
اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے (اپنی وفات کے وقت) کہا: میرے لیے بغلی قبر (لحد) بنانا اور مجھ پر کچی اینٹیں کھڑی کر کے لگانا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور بیہقی میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے: اور آپ کی قبر زمین سے ایک بالشت کے برابر بلند کی گئی۔ اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ اور مسلم میں انہی (سیدنا جابر رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبر کو پختہ کرنے، اس پر بیٹھنے اور اس پر عمارت بنانے سے منع فرمایا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 468]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجنائز، باب في اللحد ونصب اللبن علي الميت، حديث:966، وحديث جابر أخرجه البيهقي:3 /410، وقال الحافظ: ((وصححه ابن حبان)): ولم أجده، وحديث ((نهي أن يجصص القبر)) أخرجه مسلم، الجنائز، حديث:970.»

الحكم على الحديث:
صحيح


بلوغ المرام کی حدیث نمبر 468 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 468
لغوی تشریح:
«الْحَدُوا» «فَتحَ يَفْتَحُ» سے امر کا صیغہ ہے۔ لحد قبر کے قبلہ رخ گڑھے کو کہتے ہیں۔
«وَانْصِبُوا» «ضَرَبَ يَضْرِب» سے صیغہ امر ہے۔
«اقِيمُوا» کے معنی میں ہے یعنی نصب کرو، قائم کرو۔
«اَللَّبِنَ» ”لام“ پر فتحہ اور ”با“ کے نیچے کسرہ ہے۔ وہ اینٹ جو گارے سے بنائی جاتی ہے۔ جب اسے آگ میں پکایا جائے تو «اَجُرَ» کہتے ہیں جی کی ”جیم“ پر ضمہ اور ”را“ پر تشدید ہے۔
«قَدْرَ شِبْرٟ» ”شین“ کے نیچے کسرہ اور ”با“ ساکن ہے۔ انگوٹھے کے سر سے لے کر چھنگلی کے سر تک کا فاصلہ، یعنی بالشت۔
«اَنْ يُّجَصَّصَ الْقَبْرُ» تحصیص سے ماخوذ ہے اور صیغہ مجہول ہے، یعنی چونے کے ساتھ تعمیر کرنا۔
«وَاَّنْ يُّبنٰي عَلَيْهِ» صیغہ مجہول ہے، یعنی قبر کو بلند اور نمایاں کرنے کی غرض سے اس پر عمارت تعمیر نہ کی جائے، یا قبر کے ارد گرد گنبد وغیرہ جیسی عمارت نہ بنائی جائے۔

فوائد و مسائل:
اس حدیث سے کئی مسائل پر روشنی پڑتی ہے:
➊ قبر ایک بالشت سے زیادہ اونچی نہیں ہونی چاہیے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں قبر تیار کرنے کے دو طریقے رائج تھے: ایک لحد اور دوسرا شق۔ لحد، یعنی بغلی قبر، اس کی صورت یہ ہے کہ پہلے گڑھا کھودا جائے، پھر اس میں قبیلے کی جانب میت کو رکھنے کے لیے جگہ بنائی جائے۔ اور شق کا مطلب یہ ہے کہ بڑا گڑھا کھود کر اس کے درمیان میں میت کے لیے نسبتاً چھوٹا گڑھا کھودا جائے۔ احادیث مذکورہ سے دونوں کا جواز ثابت ہوتا ہے جیسا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: جب نبی اکرم صلى الله عليه وسلم فوت ہوئے اس وقت مدینے میں ایک آدمی لحد قبر بنایا کرتا تھا اور ایک آدمی شق والی (سیدھی)۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اپنے رب سے سے استخارہ کرتے ہیں (بہتر چیز کی دعا کرتے ہیں) اور دونوں کو بلا بھیجتے ہیں جو پیچھے رہ گیا، اسے چھوڑ دیں گے۔ (اور جو پہلے آ گیا، وہ اپنے طریقے پر قبر تیار کر دے گا) چنانچہ ان دونوں کو پیغام بھیجا گیا تو لحد بنانے والا پہلے آ گیا، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بغلی قبر تیار کروائی۔ [مسند احمد: 139/3 واسنن ابن ماجه، الجنائز باب ماجاء فى الشق، حديث: 1558، 1557]
نیز حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لحد ہمارے لیے ہے اور شق ہمارے سوا دوسروں کے لیے ہے۔“ [سنن ابي داود، الجنائز، باب فى اللحد، حديث: 3208]
علمائے کرام بیان کرتے ہیں کہ شق والی قبر دوسروں کے لیے ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہمارے لیے جائز نہیں۔ غالباً اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر مسلموں اور زیادہ شق والی قبر کا رواج ہے اور مسلمان زیادہ تر لحد (بغلی قبر) بناتے ہیں۔
امام نووی رحمہ الله اس کی بابت لکھتے ہیں کہ لحد بنانا مستحب ہے کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اتفاق سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لحد کھودی گئی تھی۔ دیکھیے: [صحيح مسلم بشرح النووي، الجنائز: 49، 48/7۔ حديث: 966]
لہٰذا جہاں زمین سخت ہو اور لحد والی (بغلی) قبر بن سکتی ہو وہاں لحد مستحب اور افضل ہے، البتہ شق (صندوقی قبر) بنانا بھی جائز ہے جیسا کہ احادیث سے اس کا بھی ثبوت ملتا ہے، «والله اعلم»
➌ کچی اینٹیں اندر لگانی چاہیں۔
➍ قبر پر کسی قسم کی عمارت تعمیر کرنا اور قبر کو پختہ بنانا شرعاً منع ہے اور یہ ممانعت تحریمی ہے۔
➎ قبر کو کوئی مخصوص شکل دینا بھی درست نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ابدی آرام گاہ کوہان نما تھی اور ایک بالشت سے بلند نہیں ہے اور یہی کیفیت حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی قبروں کی ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 468]

Bulughul Maram Hadith 468 in Urdu