بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب اللقطة
لقطہٰ (گری پڑی چیز) کا بیان
حدیث نمبر: 799
عن أنس قال: مر النبي صلى الله عليه وآله وسلم بتمرة في الطريق فقال: «لولا أني أخاف أن تكون من الصدقة لأكلتها» . متفق عليه.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر راستے میں گری پڑی ایک کھجور پر ہوا تو اسے دیکھ کر فرمایا ” اگر مجھ کو اس کا اندیشہ نہ ہوتا کہ شاید یہ صدقہ کی ہو، تو میں اسے ضرور کھا لیتا۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 799]
«عَنْ» سے – «أَنَسٍ» انس – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «مَرَّ» گزرے – «النَّبِيُّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «بِتَمْرَةٍ» ایک کھجور کے پاس سے – «فِي الطَّرِيقِ» راستے میں – «فَقَالَ» تو فرمایا: – «لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ» اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا – «أَنْ تَكُونَ» کہ یہ ہو – «مِنَ الصَّدَقَةِ» صدقہ میں سے – «لَأَكَلْتُهَا» تو میں اسے ضرور کھا لیتا۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راستے میں پڑی ایک کھجور کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہو گی تو میں اسے کھا لیتا۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 799]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راستے میں پڑی ایک کھجور کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہو گی تو میں اسے کھا لیتا۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 799]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، اللقطة، باب إذا وجد تمرة في الطريق، حديث:2431، ومسلم، الزكاة، باب تحريم الزكاة علي رسول الله صلي الله عليه وسلم وعلي أله، حديث:1071.»
الحكم على الحديث:
صحيح
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 799 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 799
تخریج:
«أخرجه البخاري، اللقطة، باب إذا وجد تمرة في الطريق، حديث:2431، ومسلم، الزكاة، باب تحريم الزكاة علي رسول الله صلي الله عليه وسلم وعلي أله، حديث:1071.» تشریح:
1. یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ لقطہ اگر معمولی ہو تو اس سے انتفاع جائز ہے اور اسے اٹھانے والے کے لیے اس کا اعلان کرتے رہنا بھی ضروری نہیں۔
2. لقطہ کی دو اقسام ہیں: ایک یہ کہ وہ چیز بالکل معمولی سی ہو۔
اس کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اسے اٹھا کر استعمال کر لیا جائے۔
دوسری یہ کہ وہ چیز قیمتی ہو۔
اس کے بارے میں ارشاد نبوی ہے: ”اس کا سال بھر اعلان کرائے۔
“ فی زمانہ اخبارات‘ ٹیلی ویژن‘ ریڈیو وغیرہ اور مساجد کے باہر بڑے بڑے جلسوں میں اعلان کرایا جا سکتا ہے۔
اگر اشتہار کی صورت میں اسے کچھ مصارف کرنے پڑیں تو مالک لقطہ سے وصول کیے جا سکتے ہیں‘ اگر وہ آجائے‘ ورنہ اپنی جیب خاص سے۔
سال بھر اعلان کے بعد بھی اگر اس کا اصل مالک نہ ملے تو اسے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔
پھر بھی اس کی علامات اور نشانیاں ذہن نشین کر لے یا نوٹ کر لے‘ بعد میں بھی اگر اصل مالک آجائے تو اتنی قیمت ادا کرے یا مالک اسے خود چھوڑ دے۔
«أخرجه البخاري، اللقطة، باب إذا وجد تمرة في الطريق، حديث:2431، ومسلم، الزكاة، باب تحريم الزكاة علي رسول الله صلي الله عليه وسلم وعلي أله، حديث:1071.»
1. یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ لقطہ اگر معمولی ہو تو اس سے انتفاع جائز ہے اور اسے اٹھانے والے کے لیے اس کا اعلان کرتے رہنا بھی ضروری نہیں۔
2. لقطہ کی دو اقسام ہیں: ایک یہ کہ وہ چیز بالکل معمولی سی ہو۔
اس کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اسے اٹھا کر استعمال کر لیا جائے۔
دوسری یہ کہ وہ چیز قیمتی ہو۔
اس کے بارے میں ارشاد نبوی ہے: ”اس کا سال بھر اعلان کرائے۔
“ فی زمانہ اخبارات‘ ٹیلی ویژن‘ ریڈیو وغیرہ اور مساجد کے باہر بڑے بڑے جلسوں میں اعلان کرایا جا سکتا ہے۔
اگر اشتہار کی صورت میں اسے کچھ مصارف کرنے پڑیں تو مالک لقطہ سے وصول کیے جا سکتے ہیں‘ اگر وہ آجائے‘ ورنہ اپنی جیب خاص سے۔
سال بھر اعلان کے بعد بھی اگر اس کا اصل مالک نہ ملے تو اسے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔
پھر بھی اس کی علامات اور نشانیاں ذہن نشین کر لے یا نوٹ کر لے‘ بعد میں بھی اگر اصل مالک آجائے تو اتنی قیمت ادا کرے یا مالک اسے خود چھوڑ دے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 799]
Bulughul Maram Hadith 799 in Urdu