بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. (أحاديث في النكاح)
(نکاح کے متعلق احادیث)
حدیث نمبر: 831
ولمسلم عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال لرجل تزوج امرأة: «أنظرت إليها؟» قال: لا قال: «اذهب فانظر إليها» .
مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے جو شادی کرنا چاہتا تھا فرمایا کہ ”کیا تو نے اسے دیکھ لیا ہے؟“ اس نے کہا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جاؤ اور اسے دیکھ لو۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 831]
«وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم کی روایت میں ہے – «عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» فرمایا – «لِرَجُلٍ» ایک آدمی سے – «تَزَوَّجَ» جس نے نکاح (کا ارادہ) کیا – «امْرَأَةً» ایک عورت سے: – «أَنَظَرْتَ إِلَيْهَا» کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟ – «قَالَ» اس نے کہا: – «لَا» نہیں – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «اذْهَبْ» جاؤ – «فَانْظُرْ إِلَيْهَا» پس اسے دیکھ لو۔
اور مسلم میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے جو ایک عورت سے نکاح کر رہا تھا فرمایا: ”کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”جاؤ اور اسے دیکھ لو۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 831]
اور مسلم میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے جو ایک عورت سے نکاح کر رہا تھا فرمایا: ”کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”جاؤ اور اسے دیکھ لو۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 831]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، النكاح، باب ندب النظر إلي وجه المرأة وكفيها لمن يريد تزويجها، حديث:1424.»
الحكم على الحديث:
صحيح
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 831 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 831
تخریج:
«أخرجه مسلم، النكاح، باب ندب النظر إلي وجه المرأة وكفيها لمن يريد تزويجها، حديث:1424.» تشریح:
1. اس حدیث میں امر وجوب کے لیے نہیں بلکہ جواز کے لیے ہے جیسا کہ گزشتہ حدیث سے ظاہر ہورہا ہے۔
2.یہ دیکھنا پیغام نکاح سے پہلے ہونا چاہیے کیونکہ پیغام نکاح کے بعد اگر انکار کر دے گا تو لڑکی والوں کے لیے اذیت کا باعث ہو سکتا ہے۔
«أخرجه مسلم، النكاح، باب ندب النظر إلي وجه المرأة وكفيها لمن يريد تزويجها، حديث:1424.»
1. اس حدیث میں امر وجوب کے لیے نہیں بلکہ جواز کے لیے ہے جیسا کہ گزشتہ حدیث سے ظاہر ہورہا ہے۔
2.یہ دیکھنا پیغام نکاح سے پہلے ہونا چاہیے کیونکہ پیغام نکاح کے بعد اگر انکار کر دے گا تو لڑکی والوں کے لیے اذیت کا باعث ہو سکتا ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 831]
Bulughul Maram Hadith 831 in Urdu