مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
کم سنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف
حدیث نمبر: 382
اَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، نَا طَلْحَةُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ مُحَمَّدًا کَانَ یَقُوْمُ عِنْدَ الْکَعْبَةِ عِنْدَ الصَّنَمِ مَعَ بَنِیْ عَمِّهٖ وَهُمْ صِبْیَانٌ صِغَارٌ، وَالصَّنَمُ الَّذِیْ یُقَالُ لَهٗ اَسَافٌ، فَرَفَعَ مُحَمَّدٌ رَأْسَهٗ اِلَی ظَهْرِ الْکَعْبَةِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ لَهٗ بَنُوْ عَمِّهٖ: مَا شَأْنُكَ؟ فَقَالَ: نُهِیْتُ اَنْ اَقُوْمَ عِنْدَ الصَّنَمِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا زادوں کے ساتھ جبکہ وہ کم عمر تھے، کعبہ کے پاس، بت کے پاس کھڑے ہوا کرتے تھے، وہ بت جس کا نام اساف تھا، پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی پشت کی طرف اپنا سر اٹھایا تو آپ کے چچا زادوں نے آپ سے کہا: آپ کا کیا معاملہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بت کے پاس کھڑے ہونے سے منع کیا گیا ہے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب المناسك/حدیث: 382]
Musnad Ishaq Bin Rahwiya Hadith 382 in Urdu