🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند اسحاق بن راهويه میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (981)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
جن رشتوں کا ایک مرد کے نکاح میں جمع کرنا حرام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 599
أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ دَاوُدَ بْنَ أَبِي هِنْدَ، يُحَدِّثُ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: ( (نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَالْعَمَّةُ عَلَى ابْنَةِ أَخِيهَا) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا: ”عورت کی کسی ایسے شخص سے شادی کی جائے جس کے نکاح میں اس کی پھوپھی موجود ہو اور (اسی طرح) پھوپھی کی کسی ایسے شخص سے شادی کی جائے جس کے نکاح میں اس کی بھتیجی موجود ہو۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب النكاح و الطلاق/حدیث: 599]
تخریج الحدیث: «مسلم، كتاب النكاح، باب تحريم الجمع بين المراة الخ، رقم: 1408 . سنن ترمذي، رقم: 1126 . سنن نسائي، رقم: 3290 . مسند احمد: 189/2 . طبراني اوسط، رقم: 5973 . صحيح ابن حبان، رقم: 4114 .»


مسند اسحاق بن راہویہ کی حدیث نمبر 599 کے فوائد و مسائل
 الشيخ حافظ عبدالشكور ترمذي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مسند اسحاق بن راهويه 599
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ مذکورہ رشتوں کو ایک مرد کے نکاح میں جمع کرنا حرام ہے جمہور علماء اسی کے قائل ہیں۔ لیکن یہ حرمت عارضی ہے ابدی نہیں، مختلف اوقات میں بعد از طلاق یا وفات نکاح کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ مذکورہ حدیث سے خوارج اور شیعہ کا بھی رد ہوتا ہے جن کا موقف ہے کہ یہ رشتے جمع کیے جا سکتے ہیں۔ (شرح مسلم للنووی: 5؍ 309)
[مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 599]

Musnad Ishaq Bin Rahwiya Hadith 599 in Urdu