مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مسلمان کے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے
حدیث نمبر: 763
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ فَقَالَ: ( (أُمُّكَ) ) ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ( (ثُمَّ أُمُّكَ) ) ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ( (ثُمَّ أُمُّكَ) ) ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ( (أَبُوكَ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا: میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری ماں۔“ اس نے عرض کیا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تمہاری ماں۔“ اس نے عرض کیا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر بھی تمہاری ماں۔“ اس نے عرض کیا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا باپ۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب البر و الصلة/حدیث: 763]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الاخلاق، باب من احق الناس بحسن الصحبة: 5971 . مسلم، كتاب البروالصلة، باب برالو الدين وانهما احق به: 2548 . سنن ابن ماجه: 2706 . مسند احمد: 327/2 . معجم صغير: 1140 .»
Musnad Ishaq Bin Rahwiya Hadith 763 in Urdu