مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
چھینک کا جواب دینے کا بیان
حدیث نمبر: 780
أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، نا أَبُو مُنَيْنٍ وَهُوَ يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَطِسَ رَجُلٌ فَحَمِدَ اللَّهَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ: ( (يَرْحَمُكَ اللَّهُ) ) ، ثُمَّ عَطِسَ آخَرُ فَلَمْ يَقُلْ لَهُ شَيْئًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ردَدْتَ عَلَى الْآخَرِ وَلَمْ تَقُلْ لِي شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ: ( (إِنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ، وَسَكَتَّ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو ایک آدمی نے چھینک مار کر کہا: «الحمدللہ»، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يرحمك الله» پھر دوسرے آدمی نے چھینک ماری، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ بھی نہ کہا، تو اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس آدمی کو تو جواب دیا تھا، جبکہ مجھے آپ نے کچھ بھی نہیں کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”اس نے تو اللہ کی حمد بیان کی تھی، جبکہ تم خاموش رہے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب البر و الصلة/حدیث: 780]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الادب، باب الحمد للعاطس، رقم: 5867 . مسلم، كتاب الزهد، باب تشميت العاطس الخ، رقم: 2991 . سنن ابوداود، رقم: 5039 . ادب المفرد، رقم: 930 .»
مسند اسحاق بن راہویہ کی حدیث نمبر 780 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافظ عبدالشكور ترمذي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مسند اسحاق بن راهويه 780
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا جس کو چھینک آئے اور وہ الحمد للہ نہ کہے تو اس کو یرحمك اللہ نہیں کہنا چاہیے۔
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا جس کو چھینک آئے اور وہ الحمد للہ نہ کہے تو اس کو یرحمك اللہ نہیں کہنا چاہیے۔
[مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 780]
Musnad Ishaq Bin Rahwiya Hadith 780 in Urdu