مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
انبیاء کرام کی سیاست اور ختمِ نبوت کا بیان
حدیث نمبر: 885
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: نا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنِ الْفُرَاتِ الْقزَّازِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ إِذَا مَاتَ نَبِيٌّ قَامَ نَبِيٌّ مَكَانَهُ، وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي) ) ، قَالُوا: فَمَا يَكُونُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: ( (خُلَفَاءُ وَيَكْثُرُوَا فَأَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کے انبیاء ان کی سیاسی راہنمائی بھی کیا کرتے تھے، جب ایک نبی وفات پا جاتے تو دوسرے نبی ان کی جگہ آ جاتے، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! تو پھر کیا ہو گا؟ فرمایا: ”خلفاء (نائب) ہوں گے اور بہت ہوں گے، ان کا حق انہیں ادا کرو، اور اپنے حق کے متعلق اللہ سے سوال کرو۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الامارة/حدیث: 885]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الانبياء، باب ما ذكر عن بني اسرائيل، رقم: 3455 . مسلم، رقم: 1842 . سنن ابن ماجه، رقم: 2871 . مسند احمد: 297/2 .»
Musnad Ishaq Bin Rahwiya Hadith 885 in Urdu