🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند اسحاق بن راهويه میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (981)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
جہنم کہاں ہوگی؟ کا جواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 974
أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، نا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ، نا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَرَأَيْتَ جَنَّةً عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ، فَأَينَ النَّارُ؟ قَالَ: ( (أَرَأَيْتَ هَذَا اللَّيْلَ الَّذِي قَدْ كَانَ أَلْبَسَ عَلَيْكَ كُلَّ شَيْءٍ، أَيْنَ جُعِلَ؟) ) فَقَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ( (فَإِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتائیں جنت میں جس کی عرض (چوڑائی) آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، تو پھر جہنم کہاں ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بتاؤ یہ جو رات ہے جس نے تم پر ہر چیز مخفی کر دی تھی، اس کا کیا بنے گا؟“ اس نے کہا: واللہ اعلم (اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الجنة و النار و صفتهما/حدیث: 974]
تخریج الحدیث: «صحيح ابن حبان، رقم: 103 . قال شعيب الارناوط: اسناده صحيح . مستدرك حاكم: 92/1، رقم: 103 .»


مسند اسحاق بن راہویہ کی حدیث نمبر 974 کے فوائد و مسائل
 الشيخ حافظ عبدالشكور ترمذي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مسند اسحاق بن راهويه 974
فوائد:
قرآن مجید میں ہے: ﴿وَ سَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ﴾ (آل عمران: 133).... ”اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کا عرض آسمان و زمین کے برابر ہے۔“
اس آیت کو مد نظر رکھ کر اس آدمی نے بات کی۔ شیخ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس حدیث کی فقہ کا علم امام ابن حبان رحمہ اللہ کے اس حدیث پر قائم کردہ درج ذیل باب سے ہوتا ہے۔ ((ذِکْرُ الْخَبْرِ الدَّالِ عَلٰی اِجَابَةِ الْعَالِمِ بِالْاَجُوْبَةِ عَلٰی سَبِیْلِ التَّشْبِیْهٖ وَالْمَقَایِسَةِ دُوْنَ الْفَصْلِ فِی الْقِصَّةِ۔)).... ”اصل قصہ کی تفصیل میں پڑے بغیر جواب دینے کے لیے عالم کا ایسی دلیل ذکر کرنا جو تشبیہ وتقییس کی صورت میں سائل کو دئیے جانے والے جوابات پر مشتمل ہو۔“
[مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 974]

Musnad Ishaq Bin Rahwiya Hadith 974 in Urdu