🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند اسحاق بن راهويه میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (981)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
طہارت کے بغیر نماز پڑھنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 98
قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ: أَحَدَّثَكُمْ إِدْرِيسُ بْنُ يَزِيدَ الَأَوْدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ وَبِهِ أَذًى) ) فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ وَقَالَ: نَعَمْ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی طہارت کے بغیر نماز پڑھنے کا قصد نہ کرے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الطهارة /حدیث: 98]
تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجه، كتاب الطهارة، باب ماجا فى النهي للحاقن الخ، رقم: 618 . قال الشيخ الالباني: صحيح . مسند احمد: 442/2»


مسند اسحاق بن راہویہ کی حدیث نمبر 98 کے فوائد و مسائل
 الشيخ حافظ عبدالشكور ترمذي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مسند اسحاق بن راهويه 98
فوائد:
ایک دوسری حدیث میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ((لَا صَلَاةَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ وَلَا هُوَ یُدَافِعُهٗ الْاَخَبْثَانِ)) (مسلم، کتاب المساجد، رقم: 560۔ سنن ابي داود، رقم: 89).... ”جب کھانا حاضر ہو اور قضائے حاجت درپیش ہو تو نماز نہیں ہوتی۔“
شرع نے یہ ممانعت اس لیے رکھی ہے کہ ان کی موجودگی میں خشوع خضوع نہیں رہتا۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی نماز کی یہ صفت بیان کی ہے: ﴿الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خَاشِعُوْنَ﴾ (المومنون: 2)....”وہ اپنی نمازوں میں خشوع وخضوع اختیار کرتے ہیں۔“
پیشاب پاخانہ کی حاجت کے وقت نماز پڑھے گا تو اس کا دل نماز کی طرف نہیں ہوگا بلکہ اپنی حاجت کی طرف ہوگا۔
صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آدمی کے سمجھ دار ہونے کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ اپنی حاجت پوری کرے تاکہ اپنی نماز پر متوجہ ہو اور اس کا دل فارغ ہو۔
اگر کوئی اس حالت میں نماز پڑھے کہ اس کو پیشاب پاخانے کی حاجت ہو تو کیا اس کی نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ جمہور علماء کا کہنا ہے کہ نماز ہو جائے گی، لیکن کامل نہیں ہوگی۔ اس لیے اسے دوبارہ پڑھنا مستحب ہے، جبکہ اہل ظاہر کہتے ہیں: نماز نہیں ہوتی۔ شیخ عبداللہ بسام رحمہ اللہ نے جمہور کے موقف کو ترجیح دی ہے۔ (توضیح الاحکام: 2؍ 103)
[مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 98]

Musnad Ishaq Bin Rahwiya Hadith 98 in Urdu