🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
470. بَابُ التَّسْلِيمِ عَلَى الأَمِيرِ
امیر کو سلام کہنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1026
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّبِّيِّ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ حَذْلَمٍ قَالَ‏:‏ إِنِّي لَأَذْكُرُ أَوَّلَ مَنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ بِالإِمْرَةِ بِالْكُوفَةِ، خَرَجَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ مِنْ بَابِ الرَّحَبَةِ، فَفَجَأَهُ رَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ، زَعَمُوا أَنَّهُ‏:‏ أَبُو قُرَّةَ الْكِنْدِيُّ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ‏:‏ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الأَمِيرُ وَرَحْمَةُ اللهِ، السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ، فَكَرِهَهُ، فَقَالَ‏:‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَيُّهَا الأَمِيرُ وَرَحْمَةُ اللهِ، السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ، هَلْ أَنَا إِلاَّ مِنْهُمْ، أَمْ لاَ‏؟‏ قَالَ سِمَاكٌ‏:‏ ثُمَّ أَقَرَّ بِهَا بَعْدُ‏.‏
تمیم بن حذلم رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے یاد ہے کہ کوفہ میں سب سے پہلے کس کو امیر کے لقب سے سلام کہا گیا۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ رحبہ کے دروازے سے نکلے تو ایک شخص کندہ سے آیا۔ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ابو قرہ کندی تھا۔ اس نے سلام کہا اور یہ الفاظ بولے: «السلام عليك أيها الأمير ورحمة الله، السلام علیکم» ! سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے یہ انداز ناپسند کیا اور فرمایا: «السلام عليكم أيها الأمير، السلام علیکم» ! (یہ کیا انداز ہوا) کیا میں ان لوگوں میں شامل ہوں کے نہیں (پھر مجھے الگ سلام کی کیا ضرورت؟) سماک رحمہ اللہ کہتے ہیں: بعد ازاں سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے اس کو مان لیا۔ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1026]
تخریج الحدیث: «صحيح: تفرد به المصنف»
قال الشيخ الألباني: صحيح


الادب المفرد کی حدیث نمبر 1026 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عثمان منيب حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، الادب المفرد: 1026
فوائد ومسائل:
سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ تھا کہ مجھے الگ سے واحد کے صیغے کے ساتھ سلام کہنا اور لوگوں کو الگ سلام کہنے کی کیا ضرورت تھی۔ السلام علیکم میں سب آجاتے ہیں وہی کافي تھا۔ بعدازاں شاید انہیں اس انداز کے جواز پر انشراح ہوگیا تو انہوں نے اس انداز سے سلام کہنے کی اجازت دے دی۔
[فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1026]

Al Adab al Mufrad Hadith 1026 in Urdu