الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
473. بَابُ مَرْحَبًا
مرحبا کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1031
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اسْتَأْذَنَ عَمَّارٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَفَ صَوْتَهُ، فَقَالَ: ”مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ.“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز پہچان کر فرمایا: ”اچھے اور عمدہ شخص کو خوش آمدید۔“ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1031]
تخریج الحدیث: «صحيح: جامع الترمذي، المناقب، حديث: 3798»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الادب المفرد کی حدیث نمبر 1031 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عثمان منيب حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، الادب المفرد: 1031
فوائد ومسائل:
مرحبا، خوش آمدید، جی آیاں نوں، سب کلمے ہم معنی ہیں جن میں آنے والے کو یہ تأثر دیا جاتا ہے کہ ہم تیری آمد سے خوش ہیں اور تو اپنے ہی لوگوں میں آیا ہے تجھے کسی قسم کی پریشانی نہیں ہوگی۔
مرحبا، خوش آمدید، جی آیاں نوں، سب کلمے ہم معنی ہیں جن میں آنے والے کو یہ تأثر دیا جاتا ہے کہ ہم تیری آمد سے خوش ہیں اور تو اپنے ہی لوگوں میں آیا ہے تجھے کسی قسم کی پریشانی نہیں ہوگی۔
[فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1031]
Al Adab al Mufrad Hadith 1031 in Urdu