الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
507. بَابُ فَضْلِ مَنْ دَخَلَ بَيْتَهُ بِسَلامٍ
اپنے گھر میں سلام کہہ کر داخل ہونے کی فضیلت
حدیث نمبر: 1095
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ: إِذَا دَخَلْتَ عَلَى أَهْلِكَ فَسَلِّمْ عَلَيْهِمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللهِ مُبَارَكَةً طَيْبَةً. قَالَ: مَا رَأَيْتُهُ إِلا يُوجِبُهُ قَوْلُهُ: ﴿وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا﴾ [النساء: 86] .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ تو انہیں «السلام» کہو۔ یہ اللہ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ پھر فرمایا: میری رائے میں ارشادِ باری تعالیٰ: «وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا» [سورہ النساء: 86] ”جب تمہیں سلام کہا جائے تو اس سے احسن انداز میں یا اسی طرح ہی جواب دو۔“ کے مطابق سلام کا جواب دینا واجب ہے۔ [الادب المفرد/كتاب الاستئذان/حدیث: 1095]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه ابن أبى حاتم فى التفسير: 14895 و الطبري فى تفسيره: 225/19»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الادب المفرد کی حدیث نمبر 1095 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عثمان منيب حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، الادب المفرد: 1095
فوائد ومسائل:
اہل خانہ کو سلام کہنا باعث فضیلت امر ہے اور ان کا حق ہے جسے پورا کرنا ضروری ہے اور سلام کا جواب دینا جس طرح دوسرے لوگوں پر واجب ہے اسی طرح اہل خانہ پر بھی ضروری ہے کہ وہ سلام کا جواب دیں۔
اہل خانہ کو سلام کہنا باعث فضیلت امر ہے اور ان کا حق ہے جسے پورا کرنا ضروری ہے اور سلام کا جواب دینا جس طرح دوسرے لوگوں پر واجب ہے اسی طرح اہل خانہ پر بھی ضروری ہے کہ وہ سلام کا جواب دیں۔
[فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1095]
Al Adab al Mufrad Hadith 1095 in Urdu