الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
515. بَابُ: كَيْفَ الرَّدُّ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ؟
ذمیوں کو سلام کا جواب کیسے دیا جائے؟
حدیث نمبر: 1106
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدُهُمْ، فَإِنَّمَا يَقُولُ: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقُولُوا: وَعَلَيْكَ.“
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب یہودیوں میں سے کوئی تمہیں سلام کہتا ہے تو وہ کہتا ہے: «السام علیک» (تمہیں موت آئے)، تم بھی جواب میں «وعلیک» (تجھے موت پڑے) کہا کرو۔“ [الادب المفرد/كتاب أهل الكتاب/حدیث: 1106]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الاستئذان: 6257 و مسلم: 2164 و أبوداؤد: 5206 و الترمذي: 1603 و النسائي فى الكبرىٰ: 10138»
قال الشيخ الألباني: صحيح
Al Adab al Mufrad Hadith 1106 in Urdu