الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
94. بَابُ قِصَاصِ الْعَبْدِ
غلاموں کو بدلہ دینا
حدیث نمبر: 186
حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَوَّامِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَنْ ضَرَبَ ضَرْبًا ظُلْمًا اقْتُصَّ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے ایک دوسری سند سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی کو ظلماً مارا، اس سے قیامت کے دن قصاص لیا جائے گا۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 186]
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه خليفة بن خياط فى مسنده: 84»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الادب المفرد کی حدیث نمبر 186 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عثمان منيب حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، الادب المفرد: 186
فوائد ومسائل:
امام بخاری رحمہ اللہ ان روایات کو غلام کے قصاص کے باب میں لائے ہیں حالانکہ اس میں غلام کی صراحت نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ آزاد آدمی کا قصاص تو دنیا ہی میں لے لیا جاتا ہے، البتہ غلام کا قصاص دنیا میں نہیں ہے اس لیے ان روایات میں غلام کو مارنا ہی مراد ہے۔ یا پھر وہ مظلوم جو اپنا قصاص دنیا میں نہ لے سکیں۔ بعض روایات میں غلام کی صراحت ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ ان روایات کو غلام کے قصاص کے باب میں لائے ہیں حالانکہ اس میں غلام کی صراحت نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ آزاد آدمی کا قصاص تو دنیا ہی میں لے لیا جاتا ہے، البتہ غلام کا قصاص دنیا میں نہیں ہے اس لیے ان روایات میں غلام کو مارنا ہی مراد ہے۔ یا پھر وہ مظلوم جو اپنا قصاص دنیا میں نہ لے سکیں۔ بعض روایات میں غلام کی صراحت ہے۔
[فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 186]
Al Adab al Mufrad Hadith 186 in Urdu