🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
133. بَابُ الْمِزَاحِ
مذاق کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 264
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ‏:‏ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ وَمَعَهُنَّ أُمُّ سُلَيْمٍ، فَقَالَ‏:‏ ”يَا أَنْجَشَةُ، رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ‏.‏“ قَالَ أَبُو قِلابَةَ: فَتَكَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلِمَةٍ لَوْ تَكَلَّمَ بِهَا بَعْضُكُمْ لَعُبْتُمُوهَا عَلَيْهِ، قَوْلُهُ: ”سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ.“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کچھ بیویوں کے پاس تشریف لائے اور ان (بیویوں) کے ساتھ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بھی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انجشہ! شیشوں کو آہستہ لے کر چلو۔“ راوی حدیث ابو قلابہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا حکم ارشاد فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی کہتا تو تم اسے اچھا نہ سمجھتے۔ میری مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا: ”آبگینوں کو احتیاط سے لے کر چلو۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 264]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأدب، باب ما يجوز من الشعر و الرجز و الحداء: 6149 و مسلم: 2323»
قال الشيخ الألباني: صحيح


الادب المفرد کی حدیث نمبر 264 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عثمان منيب حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، الادب المفرد: 264
فوائد ومسائل:
(۱)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے اور آپ کے ساتھ آپ کی بیویاں بھی تھیں۔ اور وہ اونٹوں پر سوار تھیں آپ کے غلام انجشہ اونٹوں کو ہانک رہے تھے۔ انہوں نے حدی (اشعار پڑھنے)شروع کی تو اونٹ تیز چلنا شروع ہوگئے۔ آپ نے عورتوں کے نازک مزاج ہونے کی وجہ سے انہیں شیشوں سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ آبگینے توڑ نہ دینا کہ انہیں زیادہ تیز نہ ہانکوں کہ عورتوں کو نقصان ہو۔ اس میں مزاح کا کلمہ یہ تھا کہ آپ نے عورتوں کو آبگینوں سے تشبیہ دی۔ بظاہر یہ کلمہ خلاف مروت معلوم ہوتا ہے لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفعت شان کی وجہ سے کوئی بھی اس کا غلط مفہوم نہیں لے سکتا تھا۔
(۲) اس سے معلوم ہوا کہ بسا اوقات مزاح کی نوعیت افراد کے اعتبار سے بدل جاتی ہے، اسی طرح اوقات کے اعتبار سے بھی مذاق کی نوعیت بدل جاتی ہے۔
(۳) دوستوں کے ساتھ مذاق کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس میں کسی کی توہین نہ ہو اور اس میں غیبت اور فحش گوئی وغیرہ بھی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس طرح کے مذاق سے کینہ اور بغض پیدا ہوتا ہے۔
(۴) ”آبگینوں کو احتیاط سے لے کر چلو“ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اپنی خوبصورت آواز سے انہیں فتنے میں مبتلا نہ کرو کیونکہ عورتیں جلد متاثر ہو جاتی ہیں۔
[فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 264]

Al Adab al Mufrad Hadith 264 in Urdu