الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
151. بَابُ مَنْ سَمِعَ بِفَاحِشَةٍ فَأَفْشَاهَا
بے حیائی کی بات سن کر پھیلانے کی مذمت
حدیث نمبر: 325
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ شُبَيْلِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: كَانَ يُقَالُ: مَنْ سَمِعَ بِفَاحِشَةٍ فَأَفْشَاهَا، فَهُوَ فِيهَا كَالَّذِي أَبْدَاهَا.
شبل بن عوف رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یہ کہا جاتا تھا: جس نے بے حیائی کی بات سنی، پھر اس کو پھیلایا وہ ایسے ہے جیسے وہ اس برائی کو ظاہر کرنے والا ہے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 325]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه وكيع فى الزهد: 450 و هناد فى الزهد: 1401 و ابن أبى الدنيا فى الصمت: 261 و أبوالشيخ فى التوبيخ: 131»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الادب المفرد کی حدیث نمبر 325 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عثمان منيب حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، الادب المفرد: 325
فوائد ومسائل:
برائی کی بات پھیلانا برائی کرنے سے زیادہ بڑا ہے کیونکہ برائی کرنے والا ممکن ہے توبہ کرلے لیکن اگر وہ پھیل جائے تو اس کے برے اثرات پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔ اس لیے ایسی مجالس سے گریز کرنا چاہیے جن میں سکینڈل ہی موضوع بحث ہوتے ہیں۔
برائی کی بات پھیلانا برائی کرنے سے زیادہ بڑا ہے کیونکہ برائی کرنے والا ممکن ہے توبہ کرلے لیکن اگر وہ پھیل جائے تو اس کے برے اثرات پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔ اس لیے ایسی مجالس سے گریز کرنا چاہیے جن میں سکینڈل ہی موضوع بحث ہوتے ہیں۔
[فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 325]
Al Adab al Mufrad Hadith 325 in Urdu