الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
190. بَابُ مَنْ هَجَرَ أَخَاهُ سَنَةً
اپنے بھائی سے ایک سال تک قطع تعلق کرنا
حدیث نمبر: 405
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ الْمَدَنِيُّ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ أَبِي أَنَسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَسْلَمَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”هِجْرَةُ الْمُسْلِمِ سَنَةً كَدَمِهِ“، وَفِي الْمَجْلِسِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي عَتَّابٍ، فَقَالاَ: قَدْ سَمِعْنَا هَذَا عَنْهُ.
سیدنا ابو خراش سلمی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کو ایک سال تک چھوڑنا اسے قتل کرنے کے مترادف ہے۔“ مجلس میں محمد بن منکدر اور عبداللہ بن ابی عتاب بھی تھے، ان دونوں نے کہا کہ ہم نے بھی ان سے اسی طرح سنا ہے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 405]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه المزي فى تهذيب الكمال: 488/5 - انظر الحديث السابق»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الادب المفرد کی حدیث نمبر 405 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عثمان منيب حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، الادب المفرد: 405
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ جس طرح قتل کرنا کبیرہ گناہ ہے اسی طرح مسلمان بھائی سے قطع کلامی بھی کبیرہ گناہ ہے جسے معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ جس طرح قتل کرنے والے کوہر صورت سزا ملتی ہے، بعینہ قطع تعلق کرنے والا بھی سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جس طرح قتل کرنا کبیرہ گناہ ہے اسی طرح مسلمان بھائی سے قطع کلامی بھی کبیرہ گناہ ہے جسے معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ جس طرح قتل کرنے والے کوہر صورت سزا ملتی ہے، بعینہ قطع تعلق کرنے والا بھی سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
[فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 405]
Al Adab al Mufrad Hadith 405 in Urdu