🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. بَابُ فَضْلِ صِلَةِ الرَّحِمِ
صلہ رحمی کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 54
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِي الْعَنْبَسِ قَالَ‏:‏ دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو فِي الْوَهْطِ يَعْنِي أَرْضًا لَهُ بِالطَّائِفِ، فَقَالَ‏:‏ عَطَفَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِصْبَعَهُ فَقَالَ‏:‏ ”الرَّحِمُ شُجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ، مَنْ يَصِلْهَا يَصِلْهُ، وَمَنْ يَقْطَعْهَا يَقْطَعْهُ، لَهَا لِسَانٌ طَلْقٌ ذَلْقٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ‏.‏“
ابو عنبس رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس طائف میں واقع ان کی زمین میں گیا تو انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کو دوہرا کر کے اس کے ذریعے اشارہ کر کے فرمایا: ”رحم رحمان سے مشتق ہے، جو اسے ملائے گا اللہ اسے (اپنے ساتھ) ملائے گا، اور جو قطع رحمی کرے گا رحمان اسے اپنے سے کاٹ دے گا۔ روز قیامت اس کی فصیح و بلیغ زبان ہو گی (جس سے وہ اللہ کے حضور دعویٰ کرے گا)۔“ [الادب المفرد/كتاب صلة الرحم/حدیث: 54]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه أبوداؤد الطيالسي: 2364، التعليق الرغيب: 226/3، غاية المرام: 406»
قال الشيخ الألباني: صحیح


الادب المفرد کی حدیث نمبر 54 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عثمان منيب حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، الادب المفرد: 54
فوائد ومسائل:
(۱)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ محدثین احادیث رسول بیان کرنے میں کس درجہ محتاط تھے، ابو عنبس رحمہ اللہ نے جس جگہ، جس انداز سے حدیث سنی اسی طرح بیان کی۔
(۲) اس میں اساتذہ کے لیے راہنمائی ہے، انہیں چاہیے کہ زبان سے بیان کرنے کے علاوہ ہاتھوں کے اشارے بھی استعمال کریں، بالخصوص جب کوئی بات عملی تفہیم کی محتاج ہو۔
(۳) شجنۃ کا مطلب یہ ہے، کہ رحم او رحمان کا باہمی تعلق ان شاخوں کی طرح ہے جو باہم ملی ہوتی ہیں، یعنی جس طرح شاخوں کا باہم تعلق ہے، رحم (رشتہ داری)اور رحمن کا تعلق بھی اسی طرح ہے۔ ظاہر ہے جو اللہ تعالیٰ کی اتنی تعلق والی چیز کا لحاظ نہیں رکھے گا اللہ تعالیٰ اسے کیونکر اپنے ساتھ ملائے گا۔
(۴) زبان کو قوت گویائی عطا کرنے والی ذات باری تعالیٰ ہے۔ وہ جس کو چاہے قوت گویائی دے دے، رحم کو بھی اللہ تعالیٰ وجود عطا کرے گا اور بول کر اللہ تعالیٰ کے سامنے شکویٰ کرے گا۔ اس کی تاویل کی قطعاً ضرورت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ حقیقتاً ایسا کرنے پر قادر ہے۔
(۵) رحم رحمن سے مشتق ہے، اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس میں رحمن کی رضا ہی مقصود ہونی چاہیے۔ صلہ رحمی کے گو دیگر مقاصد ہوتے ہیں لیکن اگر بنیاد ان پر استوار کی جائے تو تعلق پائیدار نہیں ہوتا۔ اگر مقصود اللہ تعالیٰ کی خوشنودی تو دیگر مقاصد از خود حاصل ہو جاتے ہیں۔
[فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 54]

Al Adab al Mufrad Hadith 54 in Urdu