الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
330. بَابُ مَنْ كَرِهَ أَنْ يُقَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي فِي مُسْتَقَرِّ رَحْمَتِكَ
مستقر رحمت میں جانے کی دعا نہ کی جائے
حدیث نمبر: 768
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْحَارِثِ الْكَرْمَانِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلاً قَالَ لأَبِي رَجَاءٍ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلاَمَ، وَأَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ فِي مُسْتَقَرِّ رَحْمَتِهِ، قَالَ: وَهَلْ يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَمَا مُسْتَقَرُّ رَحْمَتِهِ؟ قَالَ: الْجَنَّةُ، قَالَ: لَمْ تُصِبْ، قَالَ: فَمَا مُسْتَقَرُّ رَحْمَتِهِ؟ قَالَ: قُلْتُ: رَبُّ الْعَالَمِينَ.
ابو حارث کرمانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک آدمی سے سنا، اس نے ابو رجاء سے کہا: میں تجھے سلام کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور تجھے اپنی رحمت کے منبع میں جمع کر دے۔ ابو رجاء نے کہا: کیا اس کی کوئی طاقت رکھتا ہے؟ اور کہا کہ تجھے معلوم ہے مستقر رحمت کیا ہے؟ اس نے کہا: جنت! ابو رجاء نے کہا: تیرا جواب غلط ہے۔ اس نے پوچھا: پھر مستقر رحمت کیا ہے؟ ابو رجاء نے کہا: مستقر رحمت سے مراد تمام جہانوں کا رب ہے۔ [الادب المفرد/كتاب الأقوال/حدیث: 768]
تخریج الحدیث: «صحيح:»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الادب المفرد کی حدیث نمبر 768 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عثمان منيب حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، الادب المفرد: 768
فوائد ومسائل:
مستقر ٹھکانے کو کہتے ہیں جہاں پر کوئی قرار پکڑے۔ رحمت صفت ہے اور اس کا منبع اور ٹھکانا اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ جنت کو جائے رحمت مجازی طور پر کیا گیا ہے کہ اس میں اللہ کی رحمت کے آثار ظاہر ہوں گے۔
مستقر ٹھکانے کو کہتے ہیں جہاں پر کوئی قرار پکڑے۔ رحمت صفت ہے اور اس کا منبع اور ٹھکانا اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ جنت کو جائے رحمت مجازی طور پر کیا گیا ہے کہ اس میں اللہ کی رحمت کے آثار ظاہر ہوں گے۔
[فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 768]
Al Adab al Mufrad Hadith 768 in Urdu