الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
446. بَابُ قِيَامِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ تَعْظِيمًا
کسی آدمی کی تعظیم کے لیے کھڑا ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 977
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ يَقُولُ: إِنَّ مُعَاوِيَةَ خَرَجَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ قُعُودٌ، فَقَامَ ابْنُ عَامِرٍ، وَقَعَدَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، وَكَانَ أَرْزَنَهُمَا، قَالَ مُعَاوِيَةُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَمْثُلَ لَهُ عِبَادُ اللهِ قِيَامًا، فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا مِنَ النَّارِ.“
ابو مجلز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے تو عبداللہ بن عامر اور عبداللہ بن زبیر بیٹھے تھے۔ ابن عامر انہیں دیکھ کر کھڑے ہو گئے اور ابن زبیر بیٹھے رہے، اور ان دونوں میں سے وہ زیادہ باوقار تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے (ابن عامر کو کھڑا دیکھ کر) کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے یہ بات خوش کرے کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہوا کریں وہ اپنا گھر آگ میں بنا لے۔“ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 977]
تخریج الحدیث: «صحيح: سنن أبى داؤد، الأدب، ح: 5229 و جامع الترمذي، الأدب، ح: 2755»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الادب المفرد کی حدیث نمبر 977 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عثمان منيب حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، الادب المفرد: 977
فوائد ومسائل:
کسی کے لیے تعظیماً کھڑا ہونا منع ہے اور ایسا کروانے والا انسان کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عجمی متکبرین کی عادت قرار دیا ہے۔ اس کے متعلق تفصیلی بحث گزر چکی ہے۔
کسی کے لیے تعظیماً کھڑا ہونا منع ہے اور ایسا کروانے والا انسان کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عجمی متکبرین کی عادت قرار دیا ہے۔ اس کے متعلق تفصیلی بحث گزر چکی ہے۔
[فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 977]
Al Adab al Mufrad Hadith 977 in Urdu