الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
448. بَابُ إِفْشَاءِ السَّلامِ
سلام عام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 981
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَأَفْشُوا السَّلاَمَ، تَدْخُلُوا الْجِنَانَ.“
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رحمان کی عبادت کرو، کھانا کھلاؤ، سلام عام کرو، تم جنتوں میں داخل ہو جاؤ گے۔“ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 981]
تخریج الحدیث: «صحيح: جامع الترمذي، الأطعمة، ح: 1854»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الادب المفرد کی حدیث نمبر 981 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عثمان منيب حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، الادب المفرد: 981
فوائد ومسائل:
مذکورہ روایات سے معلوم ہوا کہ سلام عام کرنے سے دنیا و آخرت میں سلامتی نصیب ہوتی ہے، نیز یہ جنت میں جانے کا ذریعہ بھی ہے۔ اس سے باہمی محبت کو فروغ ملتا ہے اس لیے اس آدمی کو بھی سلام کہنا چاہیے جس سے جان پہچان نہ ہو۔
مذکورہ روایات سے معلوم ہوا کہ سلام عام کرنے سے دنیا و آخرت میں سلامتی نصیب ہوتی ہے، نیز یہ جنت میں جانے کا ذریعہ بھی ہے۔ اس سے باہمی محبت کو فروغ ملتا ہے اس لیے اس آدمی کو بھی سلام کہنا چاہیے جس سے جان پہچان نہ ہو۔
[فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 981]
Al Adab al Mufrad Hadith 981 in Urdu