سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
110. باب النَّهْيِ عَنْ مَسْحِ الْحَصَا:
نماز میں کنکری ہٹانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1426
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ، فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ، فَلَا يَمسْحِ الْحَصَا".
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز کو کھڑا ہوتا ہے تو رحمت الٰہی اس کے سامنے ہوتی ہے، لہٰذا وہ کنکری نہ ہٹائے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1426]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1428] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 945] ، [ترمذي 379] ، [نسائي 1190] ، [ابن ماجه 1027] ، [ابن حبان 2273] ، [موارد الظمآن 481] ، [الحميدي 128] ، [الطيالسي 445] ، [ابن الجارود 219]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 945] ، [ترمذي 379] ، [نسائي 1190] ، [ابن ماجه 1027] ، [ابن حبان 2273] ، [موارد الظمآن 481] ، [الحميدي 128] ، [الطيالسي 445] ، [ابن الجارود 219]
وضاحت: (تشریح احادیث 1424 سے 1426)
ان احادیث سے نماز میں سجدے کی جگہ کو بار بار صاف کرنے کی ممانعت ہے، اگر بہت ہی ضروری ہو اور سجدہ کرنا مشکل ہو تو صرف ایک بار ایسا کرنے کی اجازت ہے، اور یہ اس لئے کہ یکسو ہو کر نماز پڑھے، نمازی کا ذہن ادھر ادھر نہیں بھٹکنا چاہیے اس لئے نماز میں ادھر ادھر التفات و توجہ کرنے، کپڑے سمیٹنے اور بال سدھارنے سے منع کیا گیا ہے۔
مؤمنین کی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں اور یکسو ہو کر نماز پڑھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سب کو اس کی تو فیق بخشے۔
آمین۔
ان احادیث سے نماز میں سجدے کی جگہ کو بار بار صاف کرنے کی ممانعت ہے، اگر بہت ہی ضروری ہو اور سجدہ کرنا مشکل ہو تو صرف ایک بار ایسا کرنے کی اجازت ہے، اور یہ اس لئے کہ یکسو ہو کر نماز پڑھے، نمازی کا ذہن ادھر ادھر نہیں بھٹکنا چاہیے اس لئے نماز میں ادھر ادھر التفات و توجہ کرنے، کپڑے سمیٹنے اور بال سدھارنے سے منع کیا گیا ہے۔
مؤمنین کی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں اور یکسو ہو کر نماز پڑھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سب کو اس کی تو فیق بخشے۔
آمین۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذر | صحابي | |
👤←👥أبو الأحوص مولى بني ليث، أبو الأحوص أبو الأحوص مولى بني ليث ← أبو ذر الغفاري | ضعيف الحديث | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← أبو الأحوص مولى بني ليث | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله محمد بن يوسف الفريابي ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة |
Sunan Darmi Hadith 1426 in Urdu
أبو الأحوص مولى بني ليث ← أبو ذر الغفاري