سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
112. باب الصلاة فى مرابض الغنم ومعاطن الإبل:
اونٹ اور بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1429
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهِ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَلَمْ تَجِدُوا إِلَّا مَرَابِضَ الْغَنَمِ، وَأَعْطَانَ الْإِبِلِ، فَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کا وقت ہو جائے اور تمہیں بکریوں اور اونٹ کے باڑے (ان کے بیٹھنے کی جگہ) کے علاوہ اور کوئی جگہ نہ ملے تو بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لو اور اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھو۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1429]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1431] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 348، 349] ، [ابن ماجه 768] ، [ابن حبان 1700] ، [موارد الظمآن 336]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 348، 349] ، [ابن ماجه 768] ، [ابن حبان 1700] ، [موارد الظمآن 336]
وضاحت: (تشریح حدیث 1428)
احکامِ شریعت حکمت و منفعت سے لبریز ہیں۔
مذکورہ بالا حدیث میں جگہ نہ ملنے پر بکریوں کے باڑے میں نماز کی اجازت دی گئی اور اونٹ کے باڑے میں نماز پڑھنے کی ممانعت ہے، اور یہ اس لئے کہ بکریوں سے ضرر کا اندیشہ نہیں اس کے برعکس اونٹ اگر بھڑک جائے تو چوٹ کیا جان تک جانے کا اندیشہ ہے، اور قرآن پاک میں بھی اصول بیان کر دیا گیا: «﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ [البقرة: 195] » ”اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔
“ قربان جائیں ایسی شریعت حقہ پر جس کا ہر امر اور ہر نہی حکمت سے پُر ہے۔
احکامِ شریعت حکمت و منفعت سے لبریز ہیں۔
مذکورہ بالا حدیث میں جگہ نہ ملنے پر بکریوں کے باڑے میں نماز کی اجازت دی گئی اور اونٹ کے باڑے میں نماز پڑھنے کی ممانعت ہے، اور یہ اس لئے کہ بکریوں سے ضرر کا اندیشہ نہیں اس کے برعکس اونٹ اگر بھڑک جائے تو چوٹ کیا جان تک جانے کا اندیشہ ہے، اور قرآن پاک میں بھی اصول بیان کر دیا گیا: «﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ [البقرة: 195] » ”اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔
“ قربان جائیں ایسی شریعت حقہ پر جس کا ہر امر اور ہر نہی حکمت سے پُر ہے۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله هشام بن حسان الأزدي ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة حافظ | |
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية يزيد بن زريع العيشي ← هشام بن حسان الأزدي | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن المنهال الضرير، أبو عبد الله، أبو جعفر محمد بن المنهال الضرير ← يزيد بن زريع العيشي | ثقة حافظ |
Sunan Darmi Hadith 1429 in Urdu
محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي