🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
224. باب إذا اجتمع عيدان فى يوم:
عید و جمعہ ایک ہی دن پڑ جائے تو کیا کریں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1651
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ، قَالَ: شَهِدْتُ مُعَاوِيَةَ يَسْأَلُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ: أَشَهِدْتَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَيْنِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَكَيْفَ صَنَعَ؟ قَالَ: صَلَّى الْعِيدَ، ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: "مَنْ شَاءَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَلْيُصَلِّ".
ایاس بن ابی رملہ نے کہا: میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا کہ انہوں نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا تم نے عید اور جمعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دن میں پایا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تب پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا؟ زید نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھ لی پھر جمعہ میں رخصت دی اور فرمایا: جس کا جی چاہے پڑھ لے۔ [سنن دارمي/من كتاب العيدين/حدیث: 1651]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 1653] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1070] ، [نسائي 1590] ، [ابن ماجه 1310، وغيرهم]
وضاحت: (تشریح حدیث 1650)
صحیح ابن خزیمہ میں ہے: اور جس کا جی نہ چاہے نہ پڑ ھے مگر نمازِ ظہر ضروری پڑھنی ہے۔
اس حدیث میں عید اور جمعہ ایک دن پڑ جانے پر عید کی نماز پڑھ لینے کے بعد اختیار دیا گیا ہے کہ چاہے تو جمعہ پڑھے اور چاہے تو ظہر کی نماز پڑھ لے۔
افضل ترین یہ ہے کہ امام اگر جمعہ پڑھائے تو جمعہ پڑھ لیا جائے، اور اگر ظہر کی نماز پڑھائے تو ظہر کی نماز پڑھ لے، انفرادی طور پر کوئی عمل اختیار کرنا مناسب نہیں۔
اس حدیث میں اسلافِ کرام کا آپس میں ایک دوسرے کا احترام کرنا بھی معلوم ہوا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کس طرح سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے معلومات حاصل کر رہے ہیں، یہ نہیں سوچتے کہ میرا مرتبہ و مقام تو ان سے بلند ہے میں کیوں ان سے سوال کروں۔
«(رضي اللّٰه عنهم و أرضاهم)»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زيد بن أرقم الأنصاري، أبو سعيد، أبو عمارة، أبو أنيسة، أبو عامر، أبو عمروصحابي
👤←👥إياس بن أبي رملة الشامي
Newإياس بن أبي رملة الشامي ← زيد بن أرقم الأنصاري
مجهول
👤←👥عثمان بن المغيرة الثقفي، أبو المغيرة
Newعثمان بن المغيرة الثقفي ← إياس بن أبي رملة الشامي
ثقة
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← عثمان بن المغيرة الثقفي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن موسى العبسي، أبو محمد
Newعبيد الله بن موسى العبسي ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة يتشيع
Sunan Darmi Hadith 1651 in Urdu