🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب الاِشْتِرَاطِ في الْحَجِّ:
حج میں شرط لگانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1849
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ، قَالَ: فَحَدَّثْتُ عِكْرِمَةَ فَحَدَّثَنِي، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَحُجَّ، فَكَيْفَ أَقُولُ؟ قَالَ:"قُولِي: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، وَمَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي، فَإِنَّ لَكِ عَلَى رَبِّكِ مَا اسْتَثْنَيْتِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ ضباعہ بنت الزبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرا حج کرنے کا ارادہ ہے تو میں کیسے (نیت) کہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ایسے کہو: «لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ وَمَحِلِّىْ حَيْثُ تَحْبِسُنِيْ.» یعنی میں حاضر ہوں اے الله میں حاضر ہوں اور میری جگہ احرام کھولنے کی وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے، اس طرح تو نے جو شرط لگائی وہ تیرے پروردگار پر ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1849]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1852] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1207] ، [أبوداؤد 1776] ، [ترمذي 941] ، [نسائي 2765] ، [أبويعلی 2480] ، [ابن حبان 3775]
وضاحت: (تشریح حدیث 1848)
احرام کے وقت اس طرح شرط لگانا کہ اگر مکہ تک پہنچنا نہ ہوگا تو جہاں تک پہنچ سکوں وہیں احرام کھول دوں گا، اس شرط کا فائدہ یہ ہے کہ اس کو احرام کھولنا درست ہوگا، جہاں وہ بیماری کی وجہ سے مجبور ہو جاوے اور آگے نہ جا سکے، اور ہدی کے منیٰ میں ذبح ہونے کا انتظار نہ کرنا پڑے، جیسے اور احصار میں ہوتا ہے۔
(وحیدی)
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا بعض علماء کا اسی پر عمل ہے کہ حج میں اس طرح شرط لگانا جائز ہے، پھر اگر کوئی حاجی بیمار ہو جائے یا معذور ہو تو احرام کھول دے، اور بعض علماء کے نزدیک چاہے شرط لگائے یا نہ لگائے احرام فسخ کرنا جائز نہیں، لیکن قولِ اوّل صحیح ہے جو امام شافعی، امام احمد و امام اسحاق رحمہم اللہ کا مسلک ہے۔
والله اعلم

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥هلال بن خباب العبدي، أبو العلاء
Newهلال بن خباب العبدي ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة
👤←👥ثابت بن يزيد الأحول، أبو زيد
Newثابت بن يزيد الأحول ← هلال بن خباب العبدي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن الفضل السدوسي، أبو النعمان
Newمحمد بن الفضل السدوسي ← ثابت بن يزيد الأحول
ثقة ثبت تغير في آخر عمره
Sunan Darmi Hadith 1849 in Urdu