🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب الْحَالِ التي تَجُوزُ لِلرَّجُلِ أَنْ يَخْطُبَ فِيهَا:
آدمی کے لئے کس کو پیغام دینا جائز ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2216
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ:"أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَالْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا بھتیجی اور پھوپھی کے جمع کرنے سے اور بھانجی و خالہ کے ایک ساتھ جمع کرنے سے۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2216]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو عند مالك في النكاح، [مكتبه الشامله نمبر: 2225] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5109، 5110] ، [مسلم 1408] ، [نسائي 3288]
وضاحت: (تشریح حدیث 2215)
ان دونوں احادیث سے معلوم ہوا کہ کسی ایسی عورت سے نکاح کرنا منع ہے جس کی پھوپھی یا خالہ اس کے نکاح میں ہو، اور اس کے برعکس بھی کسی ایسی عورت سے نکاح کرنا جس کی بھتیجی اور بھانجی پہلے سے نکاح میں موجود ہو۔
ابن منذر نے کہا: اس پر علماء کا اجماع ہے، ایک روایت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی منقول ہے کہ دو پھوپھیوں اور دو خالاؤں میں بھی جمع کرنا مکروہ ہے۔
امام قسطلانی رحمہ اللہ نے کہا: پھوپھی میں دادا کی بہن، نانا کی بہن، ان کے باپ کی بہن، اسی طرح خالہ میں نانی کی بہن، نانی کی ماں سب داخل ہیں اور اس کا قاعدۂ کلیہ یہ ہے کہ ان دو عورتوں کا نکاح میں جمع کرنا درست نہیں ہے کہ اگر ان میں سے ایک کو مرد فرض کریں تو دوسری عورت اس کی محرم ہو، البتہ اپنی بیوی کے ماموں کی بیٹی یا چچا کی بیٹی یا پھوپھی کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے، اسلام کا یہ وہ پرسنل لا ہے جس پر اسلام کو فخر ہے۔
اس نے اپنے پیروکاروں کے لئے ایک بہترین پرسنل لا دیا ہے۔
اس کے مقرر کردہ اصول و قوانین قیامت تک کے لئے کسی بھی ردّ و بدل سے بالا ہیں، دنیا میں کتنے ہی انقلابات آئیں، نوعِ انسانی میں کتنا ہی انقلاب برپا ہو، حالات خواہ کیسے ہی ہوں گے، مگر اسلامی قوانین اپنی جگہ برقرار رہیں گے، کسی کو بھی ان میں دست اندازی کا حق نہیں ہے۔
ہاں جو غلط قوانین لوگوں نے از خود بنا کر اسلام کے ذمہ لگا دیئے ہیں ان کا بدلنا بے حد ضروری ہے۔
(راز رحمہ اللہ)۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح وهو عند مالك في النكاح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود
Newعبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت عالم
👤←👥عبد الله بن ذكوان القرشي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن ذكوان القرشي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج
إمام ثقة ثبت
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← عبد الله بن ذكوان القرشي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبيد الله بن عبد المجيد الحنفي، أبو علي
Newعبيد الله بن عبد المجيد الحنفي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
Sunan Darmi Hadith 2216 in Urdu